خطبات محمود (جلد 7) — Page 272
۲۷۳ رہتا ہو۔انسان جو کام کرے خدا کے امر کے ماتحت اور جو نہ کرے وہ خدا ہی کی نہی کے ماتحت۔اس طرح انسان کے تمام اعمال کو خدا کے تصرف کے نیچے لایا گیا ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر یہ عادت اور یہ قدرت پیدا کرے کہ وہ جو کام کرتا ہے خدا کے لئے کرتا ہے اور جس سے باز رہتا ہے خدا کے حکم سے باز رہتا ہے۔نماز اور روزہ اس بات کی مشق کے لئے ہیں۔اور ہر کام کے لئے مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔جیسا کہ سپاہیوں کو مشق کروائی جاتی ہے کہ ان سے خندقیں کھدواتے ہیں۔چاند ماری کراتے ہیں حالانکہ ان کے سامنے اس وقت دشمن نہیں ہوتا۔ان تمام کاموں سے یہ غرض ہوتی ہے کہ مشق ہو۔کیونکہ بغیر مشق کے دنیا میں کوئی کام نہیں ہو سکتا۔مثلاً لوگ روزانہ معماروں اور نجاروں کو کام کرتے دیکھتے ہیں۔اور بہت سے خیال کرتے ہیں کہ یہ کام سہل ہے۔اور ہر شخص بڑی آسانی سے اینٹیں لگا سکتا ہے۔اسی طرح بڑھئی کے کام کے متعلق سمجھتے ہیں کہ ہم بھی لکڑی کاٹ سکتے ہیں۔حالانکہ یہ نہیں ہو سکتا جب تک مشق نہ ہو۔نہ لکڑی کائی جا سکتی ہے۔اور نہ اینٹیں لگائی جا سکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں جبکہ میری عمر چھوٹی تھی۔ہمارا ایک مکان بن رہا تھا۔مستری لگے ہوئے تھے۔یہ لوگ اپنے اوزاروں کی حفاظت کرتے ہیں۔مگر اس وقت باہر گئے ہوئے تھے۔میں لکڑی کاٹنا معمولی بات سمجھ کر تیشہ سے لکڑی کاٹنے لگا۔لیکن میرے ہاتھ پر اس سے آدھ انچ زخم لگ گیا۔جس کا اب تک نشان ہے۔چونکہ مشق نہ تھی ہمیشہ بجائے اصلی جگہ پر پڑنے کے ادھر ادھر پڑتا تھا۔لطیفہ مشہور ہے کہتے ہیں کہ کوئی امیر زادہ تیر اندازی سیکھنے لگا۔جس نشان پر وہ تیر پھینکتا تھا تیر بجائے اس پر پڑنے کے ادھر ادھر جاتا تھا۔ایک فقیر جو دیر سے اس نظارہ کو دیکھ رہا تھا۔اپنی جگہ سے اٹھا اور نشانہ پر آبیٹھا۔امیر زادہ کے مصاحبین نے ڈانٹا کہ کیا تمہاری موت آئی ہے۔اور تمہیں زندگی دو بھر معلوم ہوتی ہے کہ ہدف پر آبیٹھا ہے۔فقیر نے کہا زندگی کی خواہش ہی تو یہاں لائی ہے۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تیرا ادھر ادھر تو پڑتے ہیں اگر نہیں پڑتے تو نشانہ کی جگہ پر نہیں پڑتے۔تو نا واقف خواہ کسی کام کی نیت بھی کرے تو بھی مشق کے بغیر خلوص نیت کبھی کچھ کام نہیں دے سکتا۔مثلاً اگر کسی شخص کے بیٹے پر اس کا دشمن تلوار اٹھائے اور اس شخص کے پاس بندوق ہو۔مگر اس کو چلانے کی مشق نہ ہو۔ایسی حالت میں بیٹے سے محبت کی وجہ سے اور اس کو بچانے کی نیت سے دشمن پر بندوق چلائے تو بجائے دشمن کے ممکن ہے بیٹے ہی کو مارڈالے۔اور اس طرح اس کا بیٹا بجائے دشمن کے ہاتھ سے مرنے کے باپ ہی کے ہاتھ سے مارا جائے۔برخلاف ازیں مشاق لوگ بطور تماشہ اپنے بچے کے سر پر سیب رکھ کر گولی سے اڑا دیتے ہیں اور بچے کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔یہ محض تماشہ کے لئے اپنے پیارے بچہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور بچالیتے ہیں مگر