خطبات محمود (جلد 7) — Page 245
۲۴۵ ظاہر کیا ہے۔پھر ایک ایسی قوم جو دنیاوی لحاظ سے بہت بڑھی ہوئی ہے عیسائیوں کی قوم ہے۔کیسی کیسی اعلیٰ ایجادیں اس نے کی ہیں۔کیسے علوم نکالے ہیں اور کس قدر ترقی کی ہے۔مگر خدا کو بھی اپنی عقل سے ناپنے پر کس قدر ٹھوکر کھائی ہے کہ ایک ایسے انسان کو جو دوسرے انسانوں کی طرح کھاتا پیتا، بلکہ اس رنگ میں زیادہ کمزور ثابت ہوا کہ جس رتبہ کا وہ تھا اس کا کچھ لحاظ نہ کیا گیا۔اور اسے پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔مگر باوجود اس کے کہتے ہیں وہ خدا کا بیٹا ہے۔پھر آپ تو کہتے ہیں کہ مسیح نے کہا ہے کہ اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسری بھی اس کی طرف کر دو۔اور یہ بھی کہا ہے کہ تم اپنے دشمنوں پر رحم کرو۔اور گناہ کرنے والوں کو معاف کرو۔مگر خدا کے لئے کہتے ہیں وہ کسی پر رحم نہیں کر سکتا۔اور کسی کے گناہ معاف نہیں کر سکتا۔گویا وہ جو ساری خوبیوں کا منبع اور تمام صفات کا جامع ہے۔وہ تو کسی کو معاف نہیں کر سکتا۔مگر وہ جو کمزوریوں سے بھرا ہوا اور جس کی پیدائش میں ہی کہتے ہیں کہ آدم کے گناہ کا اثر داخل ہے وہ رحم کر سکتا ہے اور قصور معاف کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اذ قالوا ما انزل الله على بشر من شيء خدا کا جو صحیح اندازہ تھا وہ چونکہ ان لوگوں نے نہیں لگایا۔اس لئے ٹھوکر کھائی ہے۔نئے نئے دین بنالئے ہیں۔ان کے ٹھو کر کھانے کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے کہا خدا نے اپنے کوئی کلام نازل نہیں کیا بندہ پر۔مگر انہوں نے یہ نہ سمجھا۔کہ وہ خدا جو کامل ہے۔اور جس نے انسان کے جسم کے لئے پورے سامان کئے ہیں۔چاند سورج زمین آسمان بنائے ہیں ہزاروں قسم کی نعمتیں پیدا کی ہیں کیا اس نے انسان کے روحانی فائدہ کے لئے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔جسم جو فانی اور تھوڑا عرصہ رہنے والا ہے۔اس کے لئے تو خدا تعالیٰ نے اس قدر سامان کئے۔مگر روح جس پر فنا نہیں اس کے لئے کوئی سامان نہ کیا ہو۔کیا یہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔پس جس وقت انہوں نے کہا کہ خدا بندے پر کلام نازل نہیں کرتا۔تو انہوں نے بڑی غلطی کی اور یہ غلطی خدا کا صحیح اندازہ نہ لگانے کی وجہ سے کی۔خدا تو ہمیشہ بندوں پر کلام نازل کرتا ہے۔قل من انزل الكتاب الذي جاء به موسى فرماتا ہے ان سے پوچھو وہ کتاب کس نے اتاری تھی جس کو موسی لایا تھا۔خدا نے اتاری تھی یا کسی بندے نے بنالی تھی۔پھر موسیٰ بندہ تھا یا خدا جس پر ایسی کتاب اتری جو نورا وهدى للناس تجعلو نه قراطيس تبلونها وتخفون كثيرا وہ نور اور ہدایت کا باعث ہے مگر تم نے اس کو ورق ورق کیا ہوا ہے۔یعنی اسے پراگندہ کر دیا ہے۔اس کے احکام کو بھلا بیٹھے ہو۔اس میں سے کچھ ظاہر کرتے ہو۔اور کچھ چھپاتے ہو۔جو اپنے مطلب کی بات ہو۔اسے تو ظاہر کرتے ہو اور جو تمہارے خیالات کے خلاف ہو۔اسے چھپاتے ہو۔