خطبات محمود (جلد 7) — Page 16
کر چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح یہ لوگ بجائے ان لوگوں کو جو ان کے دو چار دفعہ جانے سے چندہ نہیں دیتے ست ثابت کرنے کے یہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ خود بست ہیں۔کیا وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔کہ ان میں سے کئی سالہا سال تک حضرت مسیح موعود کے مخالف رہے تھے۔اور بہت عرصہ کے بعد ان کو نصیحت حاصل ہوئی تھی۔پس جب تک کوئی شخص احمدیت کا دعوی کرتا ہے مرتے دم تک ہر ماہ بغیر ناغہ چندہ کے لئے اس کے پاس جانا چاہیے۔اور سلسلہ کی ضروریات سے اس کو آگاہ کرنا چاہیے۔قیامت کے دن تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنے لوگوں کو منوایا۔بلکہ تم سے محض یہ سوال ہو گا کہ تم نے کتنے لوگوں کو حق سنایا۔پس ہمارا کام محض حق سنانا ہے اور ہمیں اس سے باز نہیں آنا چاہیے۔ایک اور بزرگ کا قصہ حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ان کا ایک مرید ان کو ملنے کو آیا۔اور انکے پاس ٹھہرا۔ان بزرگ نے رات کو دعا کی۔انکو جواب ملا کہ تیری دعا قبول نہ ہوگی اس شخص نے بھی یہ آواز سنی پہلے دن تو ادب سے خاموش رہا دوسرے دن بھی ان بزرگ سے یہی معالمہ ہوا۔انہوں نے دعا کی مگر جواب ملا کہ تیری دعا نا منظور ہے۔تیسرے دن بھی ایسا ہی ہوا۔تب وہ شخص نہ رہ سکا اور اس نے کہا جب آپ کو تین دن سے یہ جواب مل رہا ہے پھر آپ کیوں دعا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا نادان تو نہیں جانتا کہ میرا کام صرف مانگتا ہے اس کا کام یہ ہے کہ چاہے تو دے چاہے تو نہ دے۔میں اپنا کام کرتا ہوں۔وہ اپنا کام کرتا ہے۔تو تین دن میں گھبرا گیا۔میں بیس برس سے یہ جواب سن رہا ہوں۔جب ان بزرگ نے یہ جواب دیا تو ان کو الہام ہوا کہ ہمیں تیرا یہ جواب پسند آیا اس لیئے تو نے اس میں برس کے عرصہ میں جس قدر دعائیں کی ہیں وہ سب منظور بی نادان ہے جو کوشش کو چھوڑتا ہے۔کوشش کرنا اس کا کام ہے منوانا اس کا کام نہیں۔پس میں تمام قادیان دالوں اور باہر والے احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ چندہ مانگنے سے باز نہ آئیں۔جب تک کہ ایک شخص احمدی ہونے کا مدعی ہے۔خواہ وہ پندرہ سال تک چندہ نہ دے۔ممکن ہے کہ اللہ ان کی سعی کی برکت سے اس شخص پر بھی رحم کرے اور یہ اپنے مقصد میں بھی کامیاب ہو۔اس کی کامیابی بھی یہی ہے کہ وہ شخص چندہ دینے لگے۔جس طرح میں نے پچھلے جمعہ میں تبلیغ کے لئے کہا تھا کہ انجمنیں بنائیں اور نظام قائم کریں۔اسی طرح مالی حالت کے متعلق کہتا ہوں کہ باقاعدہ اور مسلسل کوشش ہونی چاہئیے۔اور چندہ لینے والوں کو ہر ایک شخص کے پاس پہنچنا چاہئیے۔اور ساری عمر فوت ہونے تک پہنچنا چاہئیے۔اگر وہ تمہاری بات نہیں مانے گا تو خدا کے حضور جواب دہ ہو گا۔اور اگر تم ستی کرو گے اور ہمت ہار دو