خطبات محمود (جلد 7) — Page 203
٢٠٣ نہیں ہو گا۔تاکہ گھروں سے علیحدہ ہو کر سب کے لئے مساوی ہو۔کوئی شخص یہ تجویز نہیں پیش کر سکتا کہ میں اپنا گھر پیش کرتا ہوں۔اگر کوئی مسجد نہ ہو تو اس کا قائم مقام کوئی ایسی جگہ ہوگی جو سب کے لئے مساوی ہو۔دوسری بات جس کا میں نماز کی پابندی کے لئے اعلان کرنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ میرے لئے بازاروں میں پھرنے کا کم موقع ہے۔صرف ایک دفعہ باہر ورزش کے لئے نکلتا ہوں۔بازاروں میں کیا ہوتا ہے؟ میں اسے نہیں دیکھتا۔اس لئے جو لوگ بازار میں پھرتے ہیں یا جن کو بازار میں سے ہو کر مسجد میں آنا پڑتا ہے۔وہ دیکھیں اور اطلاع دیں کہ نماز کے وقت کسی احمدی کی دوکان تو کھلی نہیں رہتی۔جو شخص گھر سے ہی نماز کیلئے نہیں آتا اس کی نسبت وہ جو بازار میں جماعت کے وقت اپنی دکان پر بیٹھا رہتا ہے زیادہ قابل مواخذہ ہے وہ گویا اپنے فعل سے اعلان کرتا ہے کہ کون ہے تمہارا خدا جو مجھے نماز کے لئے بلاتا ہے۔ایسے موزی کا سب سے پہلے علاج ہونا چاہیے۔کیونکہ وہ گویا منارے پر چڑھ کر للکارتا ہے۔سب سے پہلے اس سے باز پرس کی ضرورت ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بازاری آدمی کے لفظ کو بطور گالی کے بھی استعمال فرمایا ہے۔اس کی یہی وجہ ہے کہ بازار میں رہنے والا انسان جو بدی بھی کرتا ہے وہ علی الاعلان کرتا ہے۔جو لوگ نماز کے وقت میں دکان کھلی رکھیں ان کو پکڑا جائے۔اگر نماز کے وقت میں کوئی دکان کھلی ہو تو اس کی اطلاع دی جائے۔مذہب میں تو سیاست ہے نہیں۔اس لئے ہم ان کو مذہبی اثر کے ماتحت مجبور کریں گے کہ وہ نماز پڑھیں اگر وہ نماز نہ پڑھیں تو ان کو اعلان کرنا ہو گا کہ وہ احمدی نہیں۔جب تک وہ اپنے آپ کو احمدی کہیں گے ہم ان کو نماز با جماعت کے لئے مجبور کریں گے۔ایسے لوگوں کے لئے دو ہی صورتیں ہیں اول تو یہ کہ وہ نماز با جماعت میں شامل ہوں یا وہ ہم سے جدا ہو جائیں۔ان پر ہمارا کوئی تصرف اور قبضہ نہیں ہوگا۔پھر خواہ وہ کچھ کریں ان کے فعل سے ہمیں کوئی واسطہ نہیں ہوگا۔تیسری بات جو پابندی نماز کے لئے میں بتانا چاہتا ہوں۔وہ یہ ہے کہ اگر کسی سے جماعت کی نماز رہ جائے تو وہ اس کو مسجد میں ہی پڑھے۔یہ فعل آئندہ سستی سے روک دے گا۔جب نماز باجماعت سے کسی غفلت سے رہ جائے گا اور پھر اس نماز کو مسجد میں پڑھے گا تو اس کا نفس آئندہ غفلت سے بچے گا۔میرے نزدیک اس طرح نماز با جماعت کے ذریعہ ہمدردی بھی بڑھتی ہے۔جب کوئی شخص مسجد میں نہیں آئے گا تو سوال ہو گا کہ فلاں بھائی کیوں نہیں آیا۔تو پتہ لگے گا کہ وہ بیمار ہے اس کی عیادت ہو سکے گی اور علاج کیا جا سکے گا۔یا وہ سفر پر ہو اور اس کے گھر والوں کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو ان کی امداد کی جا سکے گی۔فی الحال میں نے مجملا " ہی بیان کر دیا ہے۔تفصیل کسی اور موقع پر بیان کروں گا۔اس وقت