خطبات محمود (جلد 7) — Page 202
38 پابندی نماز اور رعایت اخلاق (۲۰ / جنوری ۱۹۲۲ء) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے پچھلے جمعہ میں نماز کے متعلق ایک بات بیان کی تھی۔چونکہ اس ہفتہ میں زیادہ تر کام اس کتاب کے متعلق رہا جو شہزادہ کا تحفہ ہے۔اس لئے اس تجویز کے متعلق تفصیلی فیصلہ نہیں کر سکا۔مگر چونکہ میں چاہتا ہوں کہ وہ کام جلدی ہو اس کے لئے جمعہ کا دن ہی موزوں ہے۔کیونکہ احباب جمع ہیں اس لئے میں اس کے بارے میں اعلان کرتا ہوں۔مختلف علاقوں یا محلوں میں جہاں احمدی اکٹھے رہتے ہیں یا متفرق اور وہ مساجد تک نہ پہنچ سکتے ہوں اس لئے کہ مساجد ان کے مکانوں سے بہت دور ہوں اور اگر وہ پانچوں وقت نماز کے لئے مسجد میں آئیں تو ان کا سارا دن آنے جانے ہی میں صرف ہو جاتا ہو یا ان تک اذان کی آواز نہ پہنچ سکتی ہو۔ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ خود ہی سوچ کر بتائیں کہ ان کے لئے ایسی قریب کی جگہ مقرر کردی جائے جہاں وہ پانچوں وقت جمع ہوا کریں۔جگہ کا انتخاب میں انہی پر چھوڑتا ہوں۔بہرحال ہو گا نماز با جماعت کا رنگ۔ان کو ان مجوزہ علاقوں میں ضرور پانچوں وقت نماز کے لئے آنا پڑے گا اور وہاں جماعت سے نماز پڑھنی پڑھے گی۔سوائے اس کے کہ عارضی طور پر کوئی بیمار ہو یا مستقل طور پر چل پھر نہ سکتا ہو یا کوئی سفر پر ہو۔ایسے اشخاص کے علاوہ ہر ایک شخص کے لئے ضروری ہوگا کہ مسجد میں آکر نماز جماعت سے پڑھے۔اور ہر ایک محلہ والے کا یا اس جگہ کے امام صلوۃ کا فرض ہوگا کہ ان کے متعلق تحقیقات کر کے اطلاع دے۔بڑی مسجد یا چھوٹی مسجد یا مسجد نور ان تینوں مسجدوں میں نگرانی نہیں ہو سکتی کہ کس محلہ کے لوگ آئے ہیں کس کے نہیں آئے۔کیونکہ آنے والے بکثرت ہوتے ہیں۔پس ایک تو یہ اعلان ہے کہ جس علاقے کے لوگ کسی مسجد میں نہ آسکتے ہوں وہ ہمیں اطلاع دیں کہ ان کے لئے ایک مناسب موقع پر مسجد کی جگہ تجویز کرائی جائے مگر وہ جگہ کسی شخص کا گھر