خطبات محمود (جلد 7) — Page 200
ہیں۔کہ جن احکام شرعی پر سزا دی جائے گی۔وہ ایسے ہوں گے جو نصوص سے ثابت ہوں۔ایسے نہیں جن کا اجتہاد سے تعلق ہو۔میں نے مناسب سمجھا ہے کہ پہلے ایک مسئلہ لیا جائے۔اور وہ مسئلہ نماز ہے۔اس کی سختی سے پابندی کرائی جائے۔جو پابندی نہ کر سکے ایک مدت معینہ کے بعد اس کو علیحدہ کر دیا جائے۔یہ بات حضرت صاحب کے مد نظر پہلے ہی تھی۔ابھی چند روز ہوئے میں نے الفضل میں حضرت مسیح موعود کا ایک حوالہ پڑھا ہے۔جس میں آپ نے لکھا ہے کہ میں عنقریب ایک کتاب ایسی لکھوں گا اور ایسے تمام لوگوں کو جماعت سے الگ کر دوں گا۔جو اپنے جذبات پر قابو نہیں پاسکتے۔جذبات کا تعلق اخلاق سے ہے۔جو شخص جذبات پر قابو نہیں رکھ جب حضرت صاحب کا ایسے شخص کو بھی جماعت سے الگ کر دینے کا منشا تھا۔تو جو لوگ فرائض کے تارک ہوں۔ان کے لئے آپ زیادہ سختی سے کام لیتے۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک جماعت ایسے لوگوں کی ہو گئی ہے جو نظر آتی ہے اور نماز میں ست ہے۔بعض لوگ ایسے ہیں جو بالکل نماز پڑھتے ہی نہیں۔بعض سست ہیں۔بعض جماعت کے تارک ہیں۔اب میں اعلان کرتا ہوں کہ وہ سب لوگ باقاعدہ ہو جاویں اور ستی کو چھوڑی دیں اور نماز باجماعت ادا کیا کریں۔جو تعمیل نہ کر سکیں تین مہینہ تک ہم ان کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد دو باتیں ہوں گی اول یہ کہ وہ قرآن و حدیث سے ثابت کر دیں کہ نماز با قاعدہ ادا کرنا ان کے لئے نہیں ہے۔اگر وہ یہ ثابت نہ کر سکیں تو پھر ہم یہ کریں گے کہ ہم اعلان کر دیں گے کہ فلاں فلاں لوگ چونکہ ہم پر یہ ثابت نہیں کر سکے کہ نماز با جماعت ان کے لئے نہیں نہ وہ اس کی پابندی کرتے ہیں۔اس لئے یہ لوگ جماعت سے خارج ہیں۔پہلا قدم وہ اٹھا ئیں دوسرا ہمارا قدم ہوگا۔میں ابھی باہر کی بات نہیں کہتا یہاں چند لوگوں کی جماعت ایسے لوگوں کی ہے جو بالغ بھی ہیں اور نماز میں سستی کرتے ہیں۔یہاں ایک دو تھے۔جب ان سے باز پرس نہ ہوئی اور وہ علی الاعلان اپنے فعل پر قائم رہے تو اور بھی لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔اگر اسی طرح ہوتا رہا تو یہی تعداد آٹھ دس سے ہیں تیں اور چالیس پچاس اور ساٹھ ستر ہوں گے پھر سو دو سو اور پھر چار سو آٹھ سو ہوتے جائیں گے۔اگر ان لوگوں کو یونہی چھوڑ دیا جائے۔تو ان کے اثر سے اور لوگ بھی خراب ہوں گے اور ہمارے مہمانوں پر اثر پڑے گا اور ہماری آئندہ نسلوں پر ان کا اثر پڑے گا۔چور اگر چوری کرتا ہے۔تو چھپ کر مگر تارک نماز علی الاعلان شریعت کی ہتک کرتا ہے۔اور اس سے جماعت کا شیرازہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ایک سو چور کسی جماعت کے لئے اتنا مضر نہیں جتنا ایک تارک نماز۔چور چوری چھپ کر کرتا ہے۔مگر تارک نماز کھلم کھلا یہ کام کرتا ہے۔اس لئے میرا منشاء ہے پہلے یہ طریق اختیار کیا جائے کہ قادیان کے علاقہ تقسیم کر دئے جائیں۔