خطبات محمود (جلد 7) — Page 196
194 حمر الحمد للہ اللہ ہی کی سب تعریف ہے کہ اس نے مجھے سزا سے محفوظ رکھا۔اور اس سال کے عرصہ میں سے صحیح و سلامت گزر آیا۔اس نے میری غفلتوں۔کمزوریوں، خطاؤں سج راہیوں کو دیکھا۔مگر باوجود اس کے کہ سزا کا مستحق تھا۔اس نے مجھے پکڑا نہیں۔حالانکہ وہ رب العالمین ہے۔اگر وہ مجھے پکڑتا تو اس کا حق تھا۔کیونکہ دنیا کی ہر ایک چھوٹی سی چھوٹی چیز کا وہ رب ہے۔اور میرا بھی رب ہے۔کیا اس لحاظ سے کہ اس نے مجھے پیدا کیا اور بڑھایا اور کیا اس لحاظ سے کہ اس کی پیدا کردہ چیزوں کو میں نے استعمال کیا اور فائدہ اٹھایا۔مگر باوجود اس کے کہ وہ مستحق تھا کہ میں اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا مگر میں نے نہیں کی۔اور باوجود اس کے کہ اس کا مجھ پر حق تھا۔جسے میں نے ادا نہ کیا۔لیکن پھر بھی اس نے مجھ سے چشم پوشی کی۔اگر اس کا مجھ پر حق نہ ہوتا۔اس نے مجھے پیدا نہ کیا ہوتا۔اس کی پیدا کردہ چیزوں سے میں نے فائدہ نہ اٹھایا ہوتا۔تو میں کہتا اس کا کیا حق تھا کہ مجھے پکڑتا۔مگر اس کے مجھ پر اس قدر احسان ہیں۔کہ جنہیں میں شمار بھی نہیں کر سکتا۔اس نے مجھے ہی پیدا نہ کیا بلکہ سورج کو بھی بنایا جس سے میں روشنی حاصل کرتا ہوں۔اس نے مجھے ہی پیدا نہیں کیا۔وہ غذا جو میں کھا کر زندگی پاتا ہوں اس کو بھی اس نے پیدا کیا ہے۔پھر اس نے مجھے ہی پیدا نہیں کیا۔اس نے چاند اور ستاروں کو بھی پیدا کیا ہے جن کی روشنی سے غذا ئیں پکتی ہیں۔پھر وہ پانی جو میں نے پیا۔وہ مکان جس میں میں رہا۔یہ سب اسی کے ہیں۔غرض مجھے ہی اس کی ربوبیت سے تعلق نہیں۔جن چیزوں سے میرا تعلق ہے۔اور جن کے ذریعہ میری زندگی قائم ہے۔ان کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے۔کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔اس لئے اسے حق اور اختیار تھا کہ مجھے گرفتار کر لیتا اور سزا دیتا۔مگر الحمدللہ کیا ہی تعریف والا خدا ہے کہ اس نے مجھے معاف کر دیا۔پھر وہ رحمن ہے۔جب مجھے خبر بھی نہ تھی اس وقت اس نے میرے لئے سامان مہیا کرنے شروع کئے۔میں اب پیدا ہوا۔مگر وہ سورج جس کی روشنی میں میں نے آنکھیں کھولیں جس کی روشنی میں میں نے اپنے عزیزوں اور پیاروں کو دیکھا مجھ سے کروڑوں سال پہلے پیدا کیا۔میں پیدا ہوا۔اور میری پیدائش کے ساتھ میرے پھیپھڑے پیدا ہوئے۔جن کے ذریعہ میں نے ہوا میں سانس لیا۔اور زندگی پائی۔مگر یہ ہوا۔جو میرے پھیپھڑوں میں گئی۔اور جس نے مجھ میں نفخ روح کیا۔اسے خدا تعالٰی نے مجھ سے کروڑوں سال پہلے پیدا کیا۔میرا اور میرے اعمال کا کوئی دخل اس کے پیدا ہونے میں نہ تھا۔اسی طرح وہ غذائیں جو میں نے کھائیں۔مجھ سے پہلے پیدا کیں۔اسی طرح زمین، جس پر چلتا ہوں۔مجھ سے پہلے پیدا کی گئی۔غرض جتنی اشیاء جن سے میری زندگی قائم ہے یا جن سے میرا تعلق ہے وہ ہمیشہ سے چلی آتی ہیں۔اور میرے اعمال کے بغیر خدا تعالٰی نے میرے لئے پیدا کیں۔اس قدر عظیم الشان احسانوں کے ہوتے ہوئے اس کا حق تھا کہ میری ادنیٰ سے ادنی خطا پر مجھے پکڑتا۔مگر اس نے میری بڑی سے