خطبات محمود (جلد 7) — Page 180
ہے۔تب وہ اس بات کو اپنا مقصد اور دعا قرار دے لے گا۔کہ جب تک دوسرے خیالات مٹا کر وہی خیالات جو میں نے قبول کئے ہیں نہ پھیلاؤں۔صبر نہ کروں گا۔ایک ایسے انسان کی زندگی میں اور اس انسان کی زندگی میں جس کو اس بات کا احساس نہیں ہو گا بہت بڑا فرق ہو گا۔وہ جس نے احمدیت کو قبول کیا اور اس نے سمجھا کہ یہ بہترین سے بہترین چیز ہے۔اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی آجائے۔اس کی وہ کوئی پروا نہیں کرے گا وہ اس کے لئے قطعا مفید اور فائدہ بخش نہیں ہوگی۔اور اس کے ساتھ ہی جب وہ یہ سمجھے گا کہ اور لوگوں کا اثر ضرور پڑتا ہے۔اور کوئی چیز ایسی نہیں۔کہ جب تک اسے روکا نہ جائے بڑھتی ہے۔جب ان باتوں پر غور کرے گا تو اس کی زندگی ایک عام زمیندار کی زندگی کی طرح نہیں ہوگی۔بلکہ اس کی زندگی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سی زندگی ہوگی اور حقیقت میں وہ زندہ ہو گا۔ایک زمیندار اور ایک تاجر بھی زندہ ہوتا ہے۔مگر وہ ایسے ہی زندہ ہوتے ہیں جیسے بھیٹر بکری۔جیسے وہ کھانا کھاتی اور پانی پیتی ہے۔اسی طرح یہ کھانا کھاتے اور پانی پیتے ہیں۔جس طرح وہ گھاس تلاش کرتی ہے۔اسی طرح یہ بھی اپنی خواراک تلاش کرتے ہیں۔یہ کوئی روحانی زندگی نہیں ہوتی۔روحانی زندگی ایک الگ زندگی ہوتی ہے۔اس میں یہی نہیں ہوتا کہ انسان کھاتا پیتا پہنتا ہے۔بلکہ ان سے بالا چیز حاصل کرتا ہے۔اور پھر اس سے بالا ہوتا ہے۔کہ دوسروں تک اس چیز کو پہنچاتا ہے۔اور ایسے ہی لوگ واقع میں زندہ ہوتے ہیں۔جن کے آگے دوسرے مردوں کی طرح جا پڑتے ہیں۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی ہی زندگی حاصل نہ تھی۔تو پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ابو بکر، عمر کو جس طرح کہتے اسی طرح وہ کرتے۔کیا ان میں ظاہری زندگی نہ تھی۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا کوئی تھا جو عمر کی گردن اپنے آگے جھکا سکتا؟ مگر آپ اگر ان کو موت میں بھی ڈالتے تو جاتے اور ذرا حیل و حجت نہ کرتے۔ان کی مثال ایسی ہی تھی۔جیسے تنور والے کے ہاتھ میں لکڑیاں ہوتی ہے۔جو انہیں تنور میں ڈالتا جاتا ہے۔اور وہ کچھ نہیں کر سکتیں۔کیونکہ وہ مردہ ہوتی ہیں۔اسی طرح ابو بکر عمرہ جو کھینچی ہوئی تلوار تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں جاکر لکڑیاں بن گئے تھے۔اور وہ مردہ تھے۔اور مردہ چیز زندہ کے ہاتھ میں بولا نہیں کرتی زندہ جس طرح چاہتا ہے اس کے ساتھ کرتا ہے۔پس یہ روحانی زندگی ہوتی ہے۔جو دنیا میں تغیر پیدا کرتی ہے۔اور یہ انہی لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔جو اپنی زندگی کا مقصد اور مدعا مذہب کو قرار دے لیتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں وہ لوگ جن کا عدم وجود برابر ہوتا ہے۔وہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔جو اس بات کو اپنا مقصد نہیں بناتے وہ کھانے پینے