خطبات محمود (جلد 7) — Page 165
144 خدا کے احکام توڑنے کے متعلق بالکل معصوم ہوتے ہیں۔مگر وہ احکام جو ان کی عقل پر چھوڑے جاتے ہیں۔ان میں غلطی کر بیٹھتے ہیں۔چاہے وہ دوسروں کے مقابلہ میں کتنے ہی دانا ہوں لیکن پھر عقل عقل ہی ہے۔اور غلطی کر بیٹھتی ہے۔تو شرعی امور کو چھوڑ کر دوسرے امور میں ان سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے۔ایک رائے قائم کرتے ہیں۔مگر پھر کہتے ہیں ایسا نہیں ہے۔۔پس جب انبیاء سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو پھر یہ کہنا کہ انسانوں کو ضرور صحیح فیصلہ کرنا چاہیے ورنہ وہ بددیانت ہونگے۔ایک بڑی زبردستی ہے۔بہت لوگ اس لئے جھگڑا پیدا کر لیتے ہیں کہ ان کے نزدیک ہر رائے کی غلطی بد دیانتی ہوتی ہے۔لیکن اگر رائے کی غلطی بددیانتی ہوتی ہے تو وہ نبیوں سے بھی ہوئی۔اور جب نبی کر سکتے ہیں۔تو اور کون ہے۔جو اس سے بچ سکے دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جنگی سپاہی جرنیل۔کرنل اور کمانڈر جو لڑائی میں عمریں گزار دیتے ہیں۔مگر بیسیوں موقعوں پر ان سے غلطی ہو جاتی ہے۔جسے وہ خود بھی غلطی تسلیم کرتے ہیں۔اور د سرے بھی تو جب وہ لوگ جو دنیا کے کاموں میں سے ایک خاص کام چن کر اپنی زندگی اس میں لگا دیتے ہیں۔رات دن اس میں صرف کرتے ہیں۔بہت سے معاون اور مددگار رکھتے ہیں۔بڑے بڑے سامان اور اسباب ان کے لئے مہیا ہوتے ہیں کہ صحیح اور درست رائے قائم کر سکیں۔وہ بھی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔اس جنگ میں دیکھو جو تھوڑے عرصہ سے بند ہوئی ہے کہ بڑے بڑے جرنیلوں نے غلطیاں کیں۔پس جب ہر قسم کے سامان اور علوم جن سے رائے کی صحت کا یقین کیا جا سکتا ہے استعمال کرنے والے بھی غلطیاں کرتے رہے ہیں۔اور اب تک کوئی نہیں۔اور ایک نے تو لکھا ہے۔کہ ایک بھی جرنیل ایسا نہیں جس نے کوئی غلطی نہ کی ہو۔تو کوئی اور شخص جس کے ذمہ بیسیوں کام ہوں۔اس سے غلطی ہو جاتا کوئی تعجب کی بات نہیں۔اور جب کوئی انسان حتی کہ کوئی نبی بھی ایسا نہیں جسے رائے کی غلطی نہ لگ سکتی ہو۔تو کیسی بے ہودگی ہے اگر کوئی یہ کہے کہ جو غلطی کرتا ہے اس کی بد دیانتی اور شرارت ہے۔غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگوں میں بڑوں میں برابر کے لوگوں میں چھوٹوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ غلطی کرتے ہیں۔اور زیادہ دانا اور کم دانا کے صرف یہ معنی ہیں۔کہ کسی کی ۹۹ کسی کی ۸۰ کسی کی ۷۰ فیصد رائیں درست ہوتی ہیں۔مگر یہ نہیں کہ کسی کی ۱۰۰ کی ۱۰۰ رائیں درست نکلیں۔جب یہ بات ہے۔تو کسی کے کام کے متعلق یہ کہنا کہ یہ رائے کی غلطی نہیں بلکہ بددیانتی ہے۔بڑی خطرناک جرات ہے۔اور قانون قدرت کا مقابلہ کرنا ہے۔کیونکہ یہ قانون جتاتا ہے۔کہ کوئی انسان ایسا نہیں۔جو غلطی نہ کر سکتا ہو۔ان چار باتوں کے بعد میں کہتا ہوں۔تم اپنے آپ میں غور کرو اور دیکھو کہ جب کسی کے متعلق