خطبات محمود (جلد 7) — Page 164
۱۶۴ اس لئے مانتے ہیں۔کہ اپنی کتاب میں آئی ہے۔اور جب دوسرے مذہب میں دیکھتے ہیں تو اس کی برائی کی وجہ سے اس کی مذمت نہیں کرتے۔بلکہ اس لئے مذمت کرتے ہیں۔کہ غیر کی کتاب میں درج ہے۔تو رائے احساسات اور جذبات کے ماتحت عام طور پر نہیں بلکہ اکثر اوقات ہوتی ہے۔جس کے ساتھ کوئی بات تعلق رکھتی ہو۔اگر اس سے کبھی رنج پہنچا ہو۔تو وہ بات بری نظر آتی ہے۔اور اگر نفع پہنچا ہو۔تو بری بات بھی اچھی دکھائی دیتی ہے۔تو کبھی رائے لگانے اور قائم کرنے والے کی اپنی حالت رائے کو بدل دیتی ہے۔اور کبھی ایسا شخص جس کے متعلق رائے قائم کی جانی ہو اس کی حالت رائے کو بدل دیتی ہے۔ہمیں اس سے نہ عداوت ہوتی ہے نہ محبت۔مگر جو کام اس نے کیا ہوتا ہے وہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے صحیح حالات کا علم نہیں ہوتا۔اور اس وجہ سے اس پر حملہ کر دیا جاتا ہے۔ایسی صورت میں رائے زنی کرنے والے کی نیت تو اچھی ہوتی ہے۔لیکن جو حالات اس کے سامنے آتے ہیں۔وہ صحیح نہیں ہوتے بلکہ غلط ہوتے ہیں۔اس لئے اس کی رائے بھی غلط ہوتی ہے۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جس کے متعلق رائے زنی کی جاتی ہے اس سے نہ رنج پہنچا ہوتا ہے نہ فائدہ اور نہ واقعات اور حالات غلط طور پر پہنچے ہوتے ہیں۔بلکہ رائے زنی کرنے والے کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔وہ جو کچھ کہتا ہے بدنیتی سے نہیں کہتا بلکہ غلط کہتا ہے۔پس یہ تین باتیں ہیں۔(۱) یہ کہ کبھی ہمارے اندر جذبات اور احساسات کے ماتحت ایسی تبدیلی ہو جاتی ہے۔کہ غلط رائے قائم کر لیتے ہیں اور (۲) کبھی واقعات غلط طور پر سامنے آتے ہیں۔اس لئے غلط رائے قائم کی جاتی ہے اور (۳) کبھی صحیح واقعات سامنے آتے ہیں۔اور ہم نیک نیتی سے جذبات سے علیحدہ ہو کر رائے لگاتے ہیں۔لیکن ہماری رائے غلط ہوتی ہے۔رائے لگانے کے متعلق یہ تین باتیں ضرور مد نظر رکھنی چاہئیں۔اور ہر شخص کو خواہ ہندو ہو یا سکھ یا مسلمان ہو یا عیسائی ماننا پڑے گا۔کہ ان تینوں باتوں کی وجہ سے رائے لگانے میں غلطی واقع ہوتی ہے۔یہ تو رائے لگانے کے متعلق باتیں ہیں۔اب میں واقعات کے متعلق کچھ بتاتا ہوں۔جن میں رائے قائم کی جاتی ہے۔ایک بات جو واقعات کے متعلق نہایت ہی ضروری ہے یہ ہے کہ انسان جو ہے خواہ وہ کتنا بڑا اور کتنے اعلیٰ درجہ کا ہو جائے بشریت اس کے ساتھ ہی رہتی ہے۔حتی کہ رسولوں کے ساتھ بھی رہتی ہے۔اندازے اور رائے کی غلطیاں ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔وہ کتنی باتوں کے متعلق فیصلہ کرتے ہیں۔مگر پھر خود تسلیم کرتے ہیں کہ ان میں بشریت کہ وجہ سے غلطی ہو گئی۔انبیاء شریعت اور