خطبات محمود (جلد 7) — Page 156
۱۵۶ باز میگوئی که دامن ترمکن ہشیار باش یعنی ایسی جگہوں اور ایسے مقامات میں رکھ کر جہاں دنیاوی ابتلاؤں اور کشمکشوں سے انسان بچ نہیں سکتا۔کہا گیا ہے کہ گنہگار نہ بنو۔یہ ایسا سوال ہے۔جو ہر دنیا دار کے دل میں پیدا ہوتا ہے کہ یا تو کہو کہ بیوی بچوں کو چھوڑ دو۔نہ یہ ہونگے اور نہ ان کے کھانے پینے اور پہننے کی فکر ہوگی۔تم یہ جو کہتے ہو کہ ان کے کھانے پینے کی فکر نہ کرو۔کیا بیوی کو طلاق دے دیں بچے پیدا ہی نہ کریں یا بچوں کو گھر سے نکال دیں یا انکو چھوڑ چھاڑ کر نکل جائیں؟ مگر آگے حکم ہے۔ایسا بھی نہ کرو۔بیوی بچوں میں ہی رہو۔اور انکو کھانے پینے کے لئے دو۔اور اولاد پیدا ہونے سے روکنا سوائے اس صورت کہ بیوی کی جان کا خطرہ ہو بہت بڑا گناہ کرنا ہے۔پھر کریں تو کیا کریں۔اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ کھانے والے تو لاؤ۔مگر کماؤ نہیں بظاہر یہ بات بہت عجیب نظر آتی ہے۔مگر یہی وہ معمہ ہے جس کے حل کرنے سے انسان کا قدم ادھر اٹھ سکتا ہے جدھر چلنے سے خدا ملتا ہے۔جب تک انسان ایسی بھٹی میں نہیں پڑتا۔اس وقت تک کس طرح سمجھتا ہے کہ واقع میں اس نے کوئی قربانی کی ہے۔یہی باتیں ہیں۔جن کے حل سے معلوم ہو سکتا ہے کہ قربانی کیا ہے۔قربانی کے معنی قریب کر دینے والے کے ہیں۔اور قریب انسان اسی وقت ہو سکتا ہے۔جب اس بھٹی میں سے گذرتا ہے۔ایک طرف اسے کہا جاتا ہے۔کسی قسم کا لالچ اور حرص نہ کر۔اور دوسری طرف کہا جاتا ہے۔بیوی بچوں کو پال۔ایک طرف کہا جاتا ہے۔دنیاوی باتوں کی طرف توجہ نہ کر۔اور دوسری طرف کہا جاتا ہے۔اپنا اور اپنے لواحقین کی ضروریات کا انتظام کر۔بظاہر یہ ایک ایسی مشکل ہے کہ جس کا حل نظر نہیں آتا۔پھر اس کے حل کا کیا طریق ہونا چاہئیے ؟ وہی جو حضرت ابراہیم نے اختیار کیا کہ وہ بظاہر آگ میں کو دے۔مگر دیکھا کہ وہ آگ نہیں بلکہ گلزار تھا۔جب انسان خدا پر توکل کرکے کو دتا ہے۔تو گو اس وقت معلوم نہیں ہو تا کہ کیا ہوگا۔اور ایسا خیال کرتا ہے کہ اس مشکل کا حل ہی نہیں۔مگر کودنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ تو ایسی آسان اور سادہ بات ہے کہ اس کے متعلق حل کا لفظ ہی استعمال کرنا بے وقوفی ہے۔جیسا کہ جب سورج چڑھا ہوا ہو تو یہ کہنا کہ بتاؤ سورج کہاں ہے بے وقوفی ہے۔پس اس وقت اس میں اخفا ہی نہیں رہتا یعنی یہ حالت جب انسان پر گزرتی ہے۔اور جب وہ دین اور دنیا کے دونوں رستوں کے اندر سے گزرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے بنائے ہیں۔تب خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے سامان پیدا ہوتے ہیں۔اور یہ ہیں وہ قربانیاں جو قرب الی اللہ کے لئے ضروری ہیں۔تم یہ مت خیال کرو۔کہ تم میں کمزوریاں ہیں۔اور تم بہت سے گناہوں سے نہیں بچ سکتے۔