خطبات محمود (جلد 7) — Page 10
مبلغ محدود دائرے میں پہنچ سکتے ہیں۔مثل ہے۔چراغ تلے اندھیرا۔دنیا میں تو نہیں معلوم کہ اس کی صداقت کہاں تک ہوگی۔مگر ہمارے معالمہ میں اس مثل کی صداقت میں شک نہیں۔ابھی قادیان تک کو ہم نے فتح نہیں کیا۔اور ہمارے ایسے دشمن ہیں جو باہر والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔پھر قادیان کے ارد گرد احمدی ہوئے ہیں۔مگر بہت کم۔اور وہ بھی ایسے ہیں کہ عموما یہ ارد گرد کے احمدی باہر کے نیم احمدیوں سے بھی بدتر ہیں۔باہر کے تحقیق کرنے والے جو ابھی احمدی نہیں ہوئے محبت و اخلاص میں ان سے بڑھے ہوئے ہونگے گویا یہ اندھیرے میں اندھیرا نظر آرہا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے۔کہ افراد توجہ نہیں کرتے۔اور ہر ایک شخص خیال کرتا ہے کہ میں ہی ایک مستقل وجود ہوں۔اور میری ہی خدا کو ضرورت تھی۔جو پوری ہو گئی۔گویا وہ خیال کرنے لگتا ہے۔کہ میرے ہی لئے خدا نے مسیح موعود کو بھیجا تھا اور میرے احمدی ہونے سے وہ غرض خدا کی پوری ہو گئی۔حالانکہ یہ غلط ہے۔مسیح موعود کا مشن سب دنیا کے لئے تھا۔میرا منشا ہے کہ آئندہ سے ہمارے افراد اس طرف بہت توجہ کریں۔ہر ایک شخص کو سمجھنا چاہیے کہ یہ حکم اسی کو ہے۔یہ نہ سمجھے۔کہ غیر کو ہے۔یہ قاعدہ ہے کہ مثلاً میں اس وقت اگر کہوں کہ فلاں چیز لاؤ تو ممکن ہے کہ کوئی بھی نہ اٹھے۔اور ہر ایک خیال کرلے کہ دوسرا اٹھے گا لیکن اگر میں نام لے دوں تو وہ فورا لے آئے گا۔پس تبلیغ کے متعلق بھی ہر ایک شخص کو حکم عام سمجھنا چاہیے اور اپنے ہی نفس کو اس حکم کا مخاطب جاننا چاہئیے اور سمجھنا چاہئیے کہ یہ حکم مجھے ہی بجا لانا ہے۔اور اگر تم سب کے سب اس پر عمل بھی شروع کر دو گے۔تو تم کامیاب ہو جاؤ گے۔اور اگر صرف اراده های کرو گے تو پھر کامیابی محال ہے۔کیونکہ بہت ارادے بھول جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے جلسہ پر اعلان کیا تھا۔اس دفعہ ارادہ ہے کہ ہر جماعت کے لئے جس طرح چندہ ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بھی ہو۔کہ ہر ایک جماعت کم از کم اتنے آدمیوں کو سلسلہ میں داخل کرے۔اگر اسی طرح پہلے سال اب سے زیادہ پھر اس سے زیادہ پھر اس سے زیادہ توجہ ہوگی تو چند ہی سال میں ہماری تبلیغ کہیں سے کہیں پہنچ جائے گی۔سب سے پہلے میں یہاں کے دوستوں کو مخاطب کرتا ہوں۔اور ان کو نصیحت کرتا ہوں۔کہ اس بارے میں کوشش کریں۔میں عنقریب اعلان کرنے والا ہوں کہ کم سے کم ہر جماعت اتنے آدمیوں کو سلسلہ میں داخل کرے گی۔یہاں کے لوگوں کو چاہیے کہ پہلے یہ نمونہ بنیں اور ایک انتظام کریں۔اور مقامی انجمن کے سیکرٹری سے مل کر انتظام کریں مبلغوں کی دو قسمیں کریں۔ایک تبلیغ کے لئے ہوں کہ وہ غیر احمدیوں کو احمدی بنائیں۔دوسرے احمدیوں کی تربیت کریں۔اور ان کو عمل سکھائیں۔اور دین کے لئے محبت و جوش اور خلوص پیدا کریں۔یہاں چونکہ ہماری تعداد زیادہ ہے