خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 145

۱۴۵ طور پر سمجھایا ہے۔اس وقت اس پر بحث کی ضرورت نہیں مگر اتنا بتاتا ہوں۔ایک صحابی کہتے ہیں۔اس فتنہ میں شامل ہونے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا۔جو تلوار سے نہ مارا گیا ہوا۔سینکڑوں ہی تھے۔جو اس فتنہ کے بعد دس ہیں، تمھیں سال تک جے۔لیکن جب بھی مرے۔تلوار سے مرے۔آخری آدمی کی نسبت ایک صحابی کہتا ہے کہ وہ اندھا ہو کر سوال کرتا پھرتا تھا۔اس حالت میں بھی خدا نے اس کے لئے یہی رکھا تھا کہ تلوار سے مارا جائے۔وہ سوال کرتے کرتے ایک دن حجاج کے سامنے آگیا۔اس نے پوچھا یہ کون ہے؟ بتایا گیا یہ بھی اس فتنہ میں شامل تھا۔اس نے کہا اسے لے آؤ۔اس کا صدقہ کریں۔اور تلوار سے اسے مار دیا گیا۔پس یہ مت سمجھو کہ میں کسی خفیہ منصوبہ یا کوشش سے ڈر سکتا ہوں اور میں نے سب کارکنوں کو بتایا ہے کہ ان کا دل بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔جیسا اس کا ہے۔جس کے ساتھ ہو کر انہوں نے کام کرتا ہے۔اور میرا دل ایسا ہے۔جو کسی سے نہیں ڈرتا۔میں خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔اور ڈر کا لفظ بھی اس حقیقت کو بیان نہیں کر سکتا۔جو خدا تعالٰی کے متعلق اپنے اندر رکھتا ہوں۔لیکن اور کسی سے مجھے کوئی ڈر نہیں۔اور میری ہدایات کے ماتحت کام کرنے والوں کو بھی چاہئیے کہ وہ بھی نہ ڈریں۔وہ دیانت اور امانت سے صداقت کو مد نظر رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے لئے کام کریں۔اور کسی سے نہ ڈریں وہ یقینا کامیاب ہونگے اگر خدا تعالیٰ کی رضا ان کے مد نظر ہوگی۔اور اگر یہ نہ ہوگی تو دنیا کو ان کے مقابلہ میں اٹھنے کی ضرورت نہیں۔خدا تعالیٰ خود انہیں تباہ کر دے گا۔جو اس کا نام لیکر فتنہ و فساد پھیلائیں گے اور دوسروں کے حقوق کی پروا نہ کریں گے۔یہ بات بیان کرنے کے بعد میں اس سوال کی طرف آتا ہوں جو گذشتہ خطبہ جمعہ کے متعلق باقی رہ گیا تھا۔میں نے بتایا تھا کہ کامیاب ہونے والی جماعت کے لئے قناعت پیدا کرنا ضروری ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ امن قائم ہو سکتا ہے۔اس کو مٹا دو۔تو فساد اور فتنہ پھیل جائے گا۔میں نے بتایا تھا کہ یورپ میں چونکہ قناعت نہیں۔اس لئے فساد برپا ہے وہاں کے غریب کی حالت یہاں کے امیر کی حالت سے بہت اچھی ہے۔وہاں ایک مزدور کو چار سو کے قریب تنخواہ ملتی ہے جو یہاں ڈپٹی کو بھی نہیں ملتی۔اور اب تو نہیں۔لیکن پچھلے دنوں ڈپٹی بنا ایک معراج سمجھا جاتا تھا۔وہاں کی مالی حالت یہاں کی نسبت بہت اچھی ہے۔مگر باوجود اس کے ان لوگوں میں اطمینان نہیں۔اور لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے۔مگر وہ اس لئے نہیں مررہے کہ ان کے پاس مال نہیں۔بلکہ اس لئے مر رہے ہیں کہ ان کے دل مر گئے۔امیر و غریب نو کرو آقا افسر و ما تحت سب یہی کہتے ہیں کہ مر گئے۔لیکن وہ باہر سے نہیں مرے۔ان کا دل مر گیا ہے۔میں نے بتایا تھا کے بے اطمینانی کی رو مٹانے کے لئے قناعت ضروری ہے۔اور اس کے لئے