خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 135 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 135

۱۳۵ ہیں۔اللہ کا بڑا شکر ہے۔مگر وہاں کا مال دار بھی یہی کہے گا کہ ہم بھوکے مر گئے۔فاقہ زدہ ہو گئے۔اور اس فاقہ کے یہ معنی ہوں گے کہ فلاں امیر نے آج جو کھانا کھایا ہے وہ اس نے نہیں کھایا۔وہ کے گا ہم چیتھڑوں میں زندگی بسر کرتے ہیں۔حالانکہ وہ چیتھڑے یہاں کے لاکر نیچے جائیں تو یہاں کے کئی امیرا نہیں خرید لیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دلوں سے قناعت اڑگئی ہے۔انہیں دولت کا نشہ ایسا چڑھ گیا ہے کہ جسے پورا کرنے کے لئے انہیں زیادہ سے زیادہ کی خواہش لگی رہتی ہے۔ان کی ایسی ہی حالت ہے۔جیسے ایک شرابی کا جب تھوڑی دیر بعد نشہ ٹوٹ جاتا ہے۔تو وہ بے چین ہو کر اور مانگتا ہے۔لیکن جو پیتا ہی نہیں وہ آرام سے لیٹا رہتا ہے۔ہر نشہ والا حرص کی طرف۔جاتا ہے۔اور اس کا پیٹ کبھی بھرتا ہی نہیں۔کیونکہ نشہ کی کوئی حد ہی نہیں۔کہ کہا جائے فلاں حد تک جا کر نشہ والے کو صبر حاصل ہو جائے گا۔تو قناعت کے ٹوٹنے سے تو قومی عمارت کی ساری دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں۔اور اسی سے سب فتنے پیدا ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں۔بعض غلطیوں کی وجہ سے قناعت ٹوٹی ہے۔اگر قناعت نہ ٹوٹتی تو خواہ یہ صورت بھی ہو جاتی کہ کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ستر ڈھانکنے کے لئے اور ایک کھیل منہ میں ڈالنے کے لئے مل سکتی تو بھی یہ حالت نہ ہوتی۔جو اب ہوئی ہے۔بات یہ ہے کہ ہم اپنی غفلتوں اور سستیوں میں پڑ کر یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہمارے آقا راہ نما رسول خدا جس کی جوتیاں اٹھانا بھی ہمارے لئے بہت ہی بڑے فخر کی بات ہے۔اس کی خوراک بعض اوقات اتنی بھی نہیں ہوتی تھی کہ آپ کا پیٹ بھر سکے۔اور یہ بات ہمارے ذہن سے نکل جاتی ہے۔کہ تیرہ سو سال گذرے جب ہمارا آقا پیٹ پر پتھر باندھے کام کے لئے چلا جا رہا تھا۔اس بات کو بھول جاتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ خدا نے محض اپنے فضل سے ہمیں وہ سامان عطا کر دئے ہیں۔جن سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں۔ایک مومن کو تو اگر یہ خوف نہ ہو کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بے قدری کرنے والا ٹھرے گا۔تو وہ کہہ سکتا ہے۔کہ کیا ہی اچھا ہوتا۔اگر وہی حالت ہوتی۔جو رسول کریم کے وقت میں تھی۔مگر اس کا دل ڈرتا ہے۔کہ خدا نے جو نعمت دی ہے۔اسے وہ کیونکر رد کرے۔تو قناعت کے نہ ہونے سے ایسی حالت پیدا ہو گئی ہے اور اس کی وجہ سے ایک یہ بات پیدا ہو جاتی ہے۔کہ سوال کی عادت بہت بڑھ جاتی ہے۔اس عادت کے مٹانے سے قناعت پیدا ہو سکتی ہے۔کیونکہ مانگنے والے کو دیکھ کر دوسروں کی نظر سے مانگنے کی برائی اٹھ جاتی ہے۔اور وہ بھی سوال کرنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ سوال کرنا ہماری شریعت نے بہت برا قرار دیا ہے۔اور حضرت عمر تو مانگنے والوں کی تھیلیاں چھین کر پھینک دیتے تھے۔سوال کرنا ایک بہت بری بات ہے۔لیکن ہماری جماعت کے کئی لوگوں نے اس کو محسوس نہیں کیا۔اور بہت ہیں جو اسے معمول بات سمجھتے ہیں۔۔