خطبات محمود (جلد 7) — Page 134
۱۳ جمع کریں۔پس دنیا میں ہمیں جو کچھ نظر آتا ہے۔وہ یہ ہے۔کہ کئی امیر روپیہ جمع کرنے میں لگے رہتے ہیں۔اور کئی غریب صبرو شکر سے گزارہ کرتے ہیں۔پھر کئی غریب دولت اکٹھا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔اور کئی امیر اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ اصل چیزوں کی قناعت ہے۔جس کے دل میں قناعت ہو چاہے وہ امیر ہو یا غریب وہ اپنی حالت پر مطمئن ہو گا۔اور جس کے دل میں یہ نہ ہو۔وہ خواہ امیر ہو یا غریب اسے اطمینان حاصل نہ ہوگا۔اور کبھی حاصل نہ ہوگا۔اگر دنیا کی ساری دولت اور مال بھی اسے حاصل ہو جائے۔تو پھر بھی وہ ستاروں کی طرف دیکھے گا۔کہ یہ کیسے خوبصورت ہیں۔یہ بھی مجھے حاصل ہو جائیں۔ایسے شخص کو اگر ساری دنیا کا سونا چاندی، لعل و جواہرات دے دئے جائیں۔دنیا کی تمام نعمتیں اسے دے دی جائیں تمام لوگوں سے کھانے پینے کی اشیاء چھین کر اس کے سپرد کر دی جائیں۔ہر قسم کے کپڑے سب سے لیکر اس کے حوالہ کر دئے جائیں۔تو بھی وہ کبھی پاتال کی طرف دیکھے گا اور کبھی آسمان کی طرف اور کہے گا نہ معلوم زمین میں کیا کیا خزانے اور کیا کیا چیزیں مدفون ہیں وہ مجھے مل جانی چاہئیں۔اور نہ معلوم آسمان پر کیا کیا چیزیں ہیں۔اور یہ چمکنے والے ستارے کسی قدر قیمتی ہیں۔یہ بھی میرے پاس ہونے چاہئیں۔پھر اگر زمین کے سارے خزانے اور ساری قیمتی چیزیں بھی نکال کر اس کے حوالہ کر دی جائیں۔اور آسمان کے ستارے بھی اس کو مل جائیں۔تو بھی اسے صبر نہیں آئے گا۔اور وہ اور کے لئے خواہش رکھے گا۔مگر جس کے دل میں قناعت ہوگی۔اس کی یہ حالت ہوگی کہ وہ فاقہ سے رات کو سوئے گا۔اور یہ کہتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرے گا۔کہ مجھے صبح تو کھانے کو روٹی مل گئی تھی۔معلوم نہیں کتنوں کو صبح کی روٹی بھی میسر نہ آئی ہوگی۔یا اگر دیندار ہو گا تو کہے گا الحمد للہ میں بھوکا تو سویا مگر کسی سے سوال نہیں کیا۔اور خواہ میری جان بھی بھوک سے نکل جائے میں کسی امیر سے سوال نہیں کروں گا۔اور اس بات پر خوش ہونگا۔کہ میں صرف اللہ کا ہی بندہ ہوں۔بندوں کا بندہ نہیں بنتا۔تو اصل چیز دل کی قناعت ہوتی ہے۔اور قوم کی ترقی اور سربلندی کے لئے اس کا پیدا کرنا ضروری ہے۔جس قوم کے دل سے یہ نکل گئی۔وہ قوم تباہ ہو گئی۔اور تباہ ہو جائے گی۔دیکھو ہمارے ملک کے زمیندار غریبی اور تنگ دستی میں جس اطمینان سے زندگی گزارتے ہیں۔وہ یورپ کے بڑے بڑے مالداروں کو حاصل نہیں ہے۔حالانکہ ہمارے ملک کے لوگوں کی یہ حالت ہے۔کہ یہاں کے نمبرداران کپڑوں کو جو ولایت کا چوہڑا بھی ردی کر کے پھینک دے۔خوشی سے خرید کر پہنتے ہیں۔مگر ان لوگوں میں چونکہ قناعت نہیں۔اور ان میں ہے اس لئے ان کی زندگی ان کے مقابلہ میں آرام سے گذرتی ہے۔یہ لوگ جوار کی روٹی کھائیں زمین پر سوئیں۔اور پتھر کا تکیہ لگائیں۔تو بھی کہتے