خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 100

لگاؤ اور پھر ان پر بتدریج موٹی لکڑیاں رکھتے جاؤ تو وہ دیا سلائی جنگل کے لئے کافی ہوگی۔لیکن اگر آگ کے ڈھیر پر سبز درخت کاٹ کر ڈال دو تو وہ نہیں جلے گا۔پس خوب یاد رکھو کہ خدا تب ہی مل سکتا ہے جب خدا کے مقرر کردہ ذرائع کے مطابق عمل کیا جائے۔مگر بہت ہیں جنہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ اس پر غور کیا ہے۔زبان پر ان کے احمدیت ہے مگر دل میں نہیں۔ایسے بہت کم ہیں جنہوں نے کچھ حاصل کیا ہے۔اور بہت ہی کم ہیں جن کے چہروں پر مجھے ایمان نظر آتا ہے۔ان کے دل یقین سے خالی ہیں۔وہ یقین جس سے خدا ملتا ہے میں نے تمہاری حالت پر اس وقت بھی غور کیا جبکہ مجھ پر تمہاری کس قسم کی ذمہ داری نہ تھی۔اور اس وقت بھی غور کیا جبکہ تمہاری تمام تر ذمہ داری مجھے ہی پر پڑگئی۔لیکن میں نے تمہیں دونوں زمانوں میں کچا پایا۔اور اس بات کا مشاہدہ کیا جو مسیح موعود کے منہ سے تمہارے متعلق نکلی تھی کہ میں جدھر تمہیں لے جانا چاہتا ہوں ابھی تو تم نے ادھر منہ بھی نہیں کیا۔بعض نادان کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس پیشگوئی کو پورا کریں گے۔میں کہتا ہوں کہ مومن کے حق میں جو بری پیشگوئی ہو مومن کا فرض نہیں ہوتا کہ اس کو پورا کرے مومن کا یہ تو فرض ہوتا ہے کہ اگر اس کے متعلق یہ پیشگوئی ہو کہ وہ خدا کی راہ میں روپیہ دے گا۔یا جائداد کو خدا کی رضا کے لئے لٹا دے گا۔تو وہ اس کے دینے میں سستی نہ کرے اور اس وقت کا منتظر نہ رہے کہ آسمان سے فرشتہ آئے اور اس سے جائداد چھوڑا دے۔چاہیے کہ خود چھوڑ دے تاکہ اس کو دو ثواب ملیں اول یہ کہ اس نے خدا کے دین کی خدمت کی اور دوسرے یہ کہ اس نے اس اچھی پیشگوئی کو پورا کیا۔لیکن ایسی پیشگوئی اگر اس کے متعلق ہو کہ یہ فلاں کو قتل کرے گا یا اس سے اور کوئی بدی یا گناہ کا کام سرزد ہو گا۔تو اس کا فرض ہے کہ اس کو ٹلانے کے لئے خدا کے حضور میں سر رکھ دے اور اپنی ناک کو اس قدر رگڑے کہ خواہ وہ گل جائے یا گھس جائے مگر اس وقت تک سر نہ اٹھائے جب تک کہ خدا تعالیٰ کا یہ وعید اس سے نہ ٹل جائے۔پس اگر کوئی نادان کہہ دے کہ ہم اس پیشگوئی کو پورا کریں گے۔تو ایسا کہنا اس کی جہالت اور نادانی ہوگی۔نیز میں کہتا ہوں کہ کہ مسیح موعود کا یہ فرمانا کہ جدھر میں بلاتا ہوں یا لے جانا چاہتا ہوں تم میں سے بہتوں نے ادھر منہ بھی نہیں کیا بطور پیشگوئی نہیں ہے۔بلکہ آپ نے پچھلا واقعہ بیان فرمایا ہے۔کہ تم نے ابھی ادھر منہ بھی نہیں کیا۔یہ تو تمہاری اس وقت کی حالت کا اظہار ہے۔اب دیکھو مسیح موعود کا زمانہ گزر گیا۔اور اس کے خلیفہ اول کا زمانہ بھی گذر گیا۔اب تم دوسرے خلیفہ کے زمانہ سے گزر رہے ہو تم نے اب بھی ادھر منہ نہیں کیا پھر تم ہی بتاؤ کہ اگر تم نے اب تک ادھر منہ نہیں کیا تو وہ کونسا وقت آئے گا جب تم ادھر منہ کرو گے اور جب کہ ابھی تم نے منہ بھی ادھر نہیں کیا۔تو نہیں معلوم وہ کونسا زمانہ