خطبات محمود (جلد 6) — Page 9
ہے۔وہ اپنے اطاعت شعار اور فرمانبردار بندوں پر فضل نہیں کریگا۔ضرور کریگا۔اس لیے تمہارا خیال غلط ہے کہ اگر تم اس کے اور اس کے رسول کے احکام پر چلو گے تو گھاٹے میں رہو گے پھر وہ رحیم ہے کسی کو اس کے عمل سے کم دنیا تو الگ رہا۔وہ تو اتنے اعلیٰ اور زیادہ بدلے دینے والا ہے جو کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتے۔اس طرح ان کے غلط خیال کی تردید کی ہے کہ میں معلوم ہی نہیں کہ کس خدا سے تمہارا پالا پڑا ہے وہ وہ خدا ہے جو تمہارے اعمال کو کم ہی نہیں کرے گا بلکہ تمہارے اعمال میں جو کمیاں رہ جائیں گی۔ان کو بھی پورا کر دے گا اور تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں بدلا دینا تو الگ رہا وہ تو اتنا بڑھ چڑھ کردیگا کہ جو تمہارے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا۔پھر کیا تم اس خدا کی نسبت یہ خیال کرتے ہو کہ تمہارے اعمال میں کمی کر دیگا اور تمہیں ذلیل اور رسوا ہونے دیگا۔مگر دیکھو با وجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی تشریح کے ساتھ ایمان کی حالت بتائی گئی ہے۔آج ایمان کی کیا حالت ہے۔ذرا ذرا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ ایمان بیچنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔میں نے کئی بار بتایا ہے کہ ایک شخص اتنی سی بات پر مرتد ہو گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود نماز پڑھنے کے بعد مسجد میں بیٹھا کرتے تھے اور لوگ کوشش کرتے تھے کہ جسقدر جلدی ہوسکے ہم آپ کے پاس پہنچیں۔تاکہ قریب جگہ حاصل کر سکیں۔ایک دن جو آپ نماز کے بعد بیٹھے اور اس شخص کے پاس سے کوئی جلدی سے گذرا جس کی کہنی اُسے لگ گئی۔تو اسی پر وہ ناراض ہو گیا اور مرتد ہو کر چلا گیا۔پھر آج کل میں دیکھتا ہوں کہ بعض ایسے لوگ ہیں جو جب تک ملازم ہوتے ہیں بڑا اخلاص ظاہر کرتے ہیں، لیکن جب انھیں ملازمت سے ہٹا دیا جائے تو ادھر وہ علیحدہ ہوتے ہیں اور ادھر انھیں نئے نئے علوم اور دلائل حاصل ہونے شروع ہو جاتے ہیں پہلے تو جب تک وہ پندرہ یا میں روپیہ کے کے ملازم تھے۔حضرت عیسی کی وفات اور حضرت مسیح موعود کے نبی ہونے کے دلائل قرآن اور احادیت سے انھیں معلوم تھے ، لیکن جب تنخواہ ملنی بند ہوئی تو اس کے خلاف فوراً ہی انھیں حیات مسیح یا مسیح موعود کے نبی نہ ہونے کے دلائل قرآن سے معلوم ہو گئے۔پھر کئی لوگوں کو اسی پر انتبلا۔آجاتا ہے کہ کسی انجمن کے سیکرٹری یا پریذیڈنٹ ہونے سے ہٹا دیا گیا۔اگر تو انھیں پردھان بنا دیا جائے تب تو سلسلہ احمدیہ سچا۔اور وہ بڑے مخلص۔اور اگر یہ نہیں تو پھر قرآن وحدیث سے ثابت ہوگیا کہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ ہی باطل ہے۔یہ اور اسی قسم کے اور آثار و اخلال بناتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے دلوں میں ایمان ہی نہیں ہوتا اور ان کانٹوں سے پتہ لگتا ہے کہ انھوں نے اپنے دل