خطبات محمود (جلد 6) — Page 61
مگر تاہم جماعت کے اعمال اور حالات میری نظر سے پوشیدہ نہیں رہے۔میں آپ لوگوں کے سامنے اس بات پر افسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہماری جماعت میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ہر وقت نگرانی چاہتے ہیں۔اور ان کی حالت ایسے بچوں کی سی ہے کہ جن سے ماں باپ نے ذرا غفلت کی اور اپنی نگرانی کو ہٹایا تو لڑنے جھگڑنے میں لگ گئے۔یہ نہیں کی حالت میں باہر کی جماعتوں کی بھی یہی حالت ہے۔ذرا توجہ ہٹی تو ان کے قادیان کے ساتھ تعلقات میں سستی پیدا ہوگئی۔گویا وہ ایک انتظام کے ماتحت تو جھاڑو کی سینکوں کی طرح بندھے ہوتے ہیں مگر توجہ ہٹنے کے ساتھ ہی تنکوں کی طرح بکھر جاتے ہیں۔ان ایام میں بیرو نجات سے ایسے خط آتے ہیں کہ نہیں اب خوب سمجھ آگئی ہے کہ خلافت کی ضرورت ہے بیکن بی کافی نہیں ہے کہ ان کو خلافت کی ضرورت معلوم ہوگئی ہے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ خلافت سے فوائد حاصل کریں۔میں یہاں کے دوستوں اور بیرونی احباب و بلانا چاہتا ہوں کہ خدائی سلسلوں کا کسی خاص شخص سے تعلق نہیں ہوا کرتا۔بڑے سے بڑا وجود جو دنیا میں آیا اور آسکتا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مبارک تھا۔مگر باوجود استقدر بلند شان کے آپ کی وفات سے بھی اسلام مسٹ نہیں گیا۔خدا کی طاقت کمزور نہیں ہوگئی۔وہی خدا جو پہلے تھا۔اب بھی ہے۔وہی اس کی قدرت نمائیاں ہیں۔خدا کی قدیم سے دوستیں ہیں کہ انبیاء اور ان کے ماننے والے ابتدا دنیاوی لحاظ سے بڑی حیثیت اور مال والے لوگ نہیں ہوتے۔ان کی فوجیں اور ملک نہیں ہوتے۔کیونکہ اگر وہ لوگ بڑے بڑے ملکوں اور فوجوں والے ہوں تو لوگوں کو یہ خیال ہو کہ شاید یہ ان فوجوں کے ذریعہ ترقی پا گئے۔چونکہ غیور خدا اس امر کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے کام کسی انسان کی طرف منسوب کئے جائیں۔اس لیے اس کے انبیایہ اور ان کے متبعین ابتدا میں دنیاوی شان و شکوہ کے مالک نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی نظر میں حقیر بکتے ہیں۔خدا تعالی کی دوسری یہ سنت ہے کہ اپنی کامل قدرت نبی کی وفات کے بعد دکھاتا ہے اور تھوڑی سی کی زندگی میں بھی ظاہر کرتا ہے تاکہ جھوٹ اور بیچ میں امتیاز ہو سکے اور حق کو ڈھونڈنے والوں کے لیے ایک ذریعہ مہیا ہو جائے۔نبیوں کے بعد پورے طور پر وہ اپنی قدرت نمائی اس لیے کرتا ہے کہ اگر انبیامہ کی زندگی ہی میں خدا کی قدرت کا پوری طرح ظہور ہو تو بعض لوگوں کو خیال ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ چست اور چالاک تھے اس لیے اپنی تدابیر میں کامیاب ہو گئے۔ورنہ ان کی کامیابی سے حق و باطل کا کوئی تعلق نہیں۔اس لیے خدا تعالیٰ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اگر وہ اس قدر ہوشیار ہوئے اور خدا