خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 60

کہ اگر تمہاری ہر وقت ایک سی حالت رہے تو پھر تم ہلاک نہ ہو جاؤ ؟ اب دیکھئے وہ کیا چیز تھی جو اس صحابی کے سامنے دوزخ اور جنت کو لا کھڑا کرتی تھی۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت مبارک تھی جس کو دیکھ کر اقرار کرنا پڑتا تھا کہ کوئی ضرور خدا ہے میں نے اس شخص کو اپنا رسول بناکر ہماری اصلاح و ہدایت کے لیے بھیجا ہے۔اور جو ہمیشہ اپنے رسولوں کو بھیجا کرتا ہے جو اگر لوگوں کو ہلاکت سے بچاتے ہیں جس طرح واعظ خطبہ سے دوسروں کو سی امر کی طرف توجہ دلاتا ہے اور الفاظ کو اپنے خیالات اور منشاء کے لدا کرنے کا ذریعہ بناتا ہے۔اسی طرح خدا کے نبی اپنی شکل کے ذریعہ سے وعظ کرتے ہیں۔ان کی شکل وصورت مجتم وعظ ہوتی ہے۔وہ شخص جس کو یہ درجہ حاصل نہیں ہے۔بیشک اس کے لیے ضروری ہے کہ کھڑا ہو کہ وعظ کرے اور الفاظ کے ذریعہ دوسروں کو متاثر کرے مگر وہ نہیں کا سیم اس کے الفاظ ہوں اور جس کے الفاظ اس کے اعمال ہوں اس کے لیے ضروری نہیں کہ منبر پر چڑھ کر ہی وعظ کرے۔بلکہ جب اس پر کسی کی نظر پڑتی ہے تو اسے وہ بھیم و غظ نظر آتا ہے جس کا اثر اس پر پڑتا ہے تو وہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا وجود مبارک ہی تو تھا جو دوزخ و جنت دونوں کو سامنے لاکھڑا کرتا تھا۔مگر لوگوں کے فہم کا لحاظ رکھتے ہوتے یہ لوگ بھی خطیہ سے کام لیتے ہیں اور ان کو سمجھا دیتے ہیں۔پھر زبانی واعظ کا سلسلہ اس لیے جاری کیا گیا کہ ہر واعظ کی وہ حالت نہیں ہوا کرتی جو خدا کے خاص بندوں کی ہوا کرتی ہے۔رسول کریم علاوہ اس تعلیم کے جس کے بغیر نجات نہیں آپ کا وجود مبارک بھی مستم و عفظ تھا۔مگر اور واعظ جوکھڑا ہوتا ہے تو اس کا وجود اس بات کیلیئے کانی نہیں ہوتا۔اس لیے وہ زبانی بھی کہتا ہے اور اسی کا نام خطبہ ہے۔نہیں خطبات کے ذریعہ مسلمانوں کو اسلام کے احکام کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور یہ وہ حکمت ہے جو اسلام نے خطبات میں رکھی ہے۔خطبات تمام اہم ہیں۔عیدین کے خطبے۔حج کا خطبہ مگر جمعہ کا خطبہ بھی اپنی اہمیت کے لحاظ سے کچھ کم نہیں۔سو یہ اللہ تعالیٰ کی کوئی حکمت تھی جس کے ماتحت تین مہینہ تک مجھ کو خطبہ پڑھنے کا موقع نہیں ملا یہ ڈیڑھ مہینہ کے قریب تو سفر میں گزر گیا اور اس سے پہلے اسی قدر عرصہ تک بیماری کی وجہ سے موقع نہیں مل سکا۔اس عرصہ میں بیماری کے علاوہ صحت کے قیام کے لیے ڈاکٹر ضروری سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ فکر اور جوش پیدا کرنے والے کسی کام میں حصہ نہ لوں۔چنانچہ اس عرصہ میں میں نے جماعت کے کاموں میں اس طرح حصہ نہیں لیا جس طرح پہلے لیتا تھا۔گویا یہ عرصہ میں نے کسی اور ہی دُنیا میں گزارا ہے نے صحیح مسلم کتاب التوبه باب فضل دوام الذكر و الفكر في امور الآخرة والمراقبة وجواز ترك ذلك في بعض الاوقات -