خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 562 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 562

۵۶۲ اسی اصول کے مطابق ہماری جماعت کی ضروریات ہر سال ذرائع سے بڑھی رہتی ہیں اگر کوئی کہے کہ یہ انحطاط کی دیں ہے۔تو اس کو معلوم ہونا چاہیئے کہ وہ ضروریات انحطاط کا باعث ہوا کرتی ہیں جن میں ذرائع آمد کم ہوں یا گم رہیں۔اور ضروریات بڑھتی جاتیں لیکن اگر ضروریات کے ساتھ ساتھ ذرائع میں بھی ترقی ہوتی رہے تو پھر ضروریات کا بڑھنا انحطاط کا موجب نہیں ہوتا۔اگر کوئی اکیلا شخص دس روپے ماہوار میں گزارہ کرتا ہے اور بیوی بچے کے ہونے پر بارہ روپے میں بھی گزارہ نہیں کر سکتا۔تو اس کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ اقتصاد کے خلاف کرتا ہے یا وہ مسرف ہے پس جہاں اخراجات بڑھتے جائیں۔وہاں آمدنی بھی بڑھتی جا رہی ہو۔تو پھر اخراجات موجب انحطاط نہیں ہوتے۔ہمارے اخراجات ہر سال بڑھتے جاتے ہیں، لیکن خدا کے فضل سے جماعت بھی دمیدم ترقی کر رہی ہے۔اور اس بڑھوتی کے باعث ہم جو سامان بھی کرتے ہیں۔وہکم ثابت ہوتے ہیں۔ملا کی سالانہ جلسہ ہے۔ہم ہرسال پیشتر کی نسبت زیادہ اندان کرتے ہیں مگر خدا کے فضل سے مہمان پہلے سال کی نسبت بہت زیادہ آجاتے ہیں۔اس لیے ہمارے بڑھے ہوئے انداز سے بھی کم ہوتے ہیں اور لوگوں کو کسی نہ کسی باعث سے شکوہ پیدا ہو ہی جاتا ہے۔اگر کوئی کہے یہ کیوں ہوا۔تو ہم کہیں گے کہ اس میں ہمارا قصور نہیں۔بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ہمارے اندازے سے بڑھکر مہمان آتے۔یہاں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ جب کسی عمان کو تکلیف ہوتی ہے۔اور دہ شکایت کرتا ہے تو اس وقت ہمارے منتظموں کو یہ حق نہیں کہ ان کی شکایت کے متعلق یہ کہیں کہ تم میاں آرام پانے نہیں آئے تھے۔بلکہ تمہارے آنے کی غرض دین سیکھنا تھا۔اگر کوئی تکلیف پہنچ گئی ہے۔تو اس کی پروانہ کرو کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں گے۔تو یہ ان کا اپنے قصور کو چھپانا ہوگا۔بے شک اس کا بیاں آنا دین سیکھنے کے لیے ہوتا ہے اور اس کا بھی فرض ہوتا ہے کہ اس غرض کو مد نظر رکھے۔مگر اس تنظیم کا کا بھی کچھ فرض ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ مہمان کی حتی الامکان خدمت اور دلجوئی کرے۔اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے۔تو نرمی سے بتاتے کہ یہ فلعلی کس طرح ہوتی ہے، لیکن اس کی بجائے منتظم کا مہمان کو اس کا فرض یاد دلانے کے یہ معنے ہیں کہ وہ اپنا فرض بھولا ہوا ہے۔اور اپنی کوتاہی کو چھپاتا ہے پس منتظم کا یہ کام نہیں ہے۔بلکہ یہ ایک تعمیر نے شخص کا کام ہے کہ دونوں کو ان کے فرائض کی طرف متوجہ کرے۔ورنہ اگر ایسے دونوں شخص جن کے ذمہ فرائض ہیں۔ایک دوسرے کو اس کا فرض یاد دلائیں گے تو اس طرح فساد ہوگا۔مثلاً اگر قرض خواہ مقروض کر کے کہ میاں خدا کا حکم ہے کہ وعدہ پورا کرنا چاہیئے۔تم