خطبات محمود (جلد 6) — Page 561
041 (103) بی جلسہ سر کی ہے منتظمین جلسہ اور مہمانوں کا فرض اخلاص کیسا تھ تربیت چاہیئے د فرموده ۳ دسمبر ۱۹۲۰ته: تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- " ترقی کرنے والی قوموں کے ساتھ یہ بات لازمی طور پر لگی ہوتی ہے کہ ان کی ضروریات میشان کی آمدنی کے ذرائع سے بڑھی رہتی ہیں۔اور جس قوم کی ضروریات ذرائع سے زیادہ نہ ہوں۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اس میں سوچنے والے دماغ نہیں۔ترقی کرنے والوں میں ہمیشہ ایسے دماغ ہوتے ہیں۔جو نتے تھے کام سوچتے رہتے ہیں۔اگر نہ ہوں تو وہ قوم ترقی کی طرف قدم نہیں بڑھا سکتی کیونکہ دنیا مں ترقی کی ایک کو چل رہی ہے اور ایک کشتی ہو رہی ہے جواس مقابلہ میں بڑھنے کی کوشش نہیں کرتا۔وہ اپنے جوہ کو قائم نہیں رکھ سکتا ہپیں جماعت کی ترقی کے لیے ضروریات کا ہونا ضروری ہے کیونکہ اس کے ساتھ جماعت کے اعمال بھی ترقی کرتے رہتے ہیں۔حضرت میں موجود علی السلام فرمایا کرتے تھے کہ اگر شن اعتراض نہ کرتے۔اور ابوجہل، عقبہ شیبہ کا وجود نہ ہوتا۔تو قرآن بہت مختصر ہوتا۔اس طرح معترض کا وجود بھی مفید ہو جاتا ہے۔وہ اعتراض کرتا ہے تو اسلام کی تائید میں نئے نئے دلائل اور نئے نئے علوم نکلتے ہیں۔اگر سب لوگ ہی حضرت ابو بکر نہ جیسے ہوتے اور اعتراض نہ کرتے تو نہ معجزات کا ظہور ہوتا۔نہ آیات اللہ ظاہر ہوتیں۔نہ خدا کی قدرت نظر آتی کیونکہ اس کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔پس ترقی کے لیے ضروریات کا ہونا ضروری ہے۔