خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 56

04 اور افتراق و شقاق کا نام آگ کے کنارے کھڑا ہونا رکھا ہے جس طرح آگ میں پڑا ہوا انسان ہلاکت سے نہیں بچ سکتا۔اسی طرح نا اتفاقی کے جو نتائج ہیں ان سے بھی نہیں بچ سکتا نہیں نا اتفاقی کا عذاب ایسا ہی عذاب ہے۔جیسا کہ آگ میں پڑ جانے کا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔دیکھو ہم نے اتفاق و اتحاد اپنے فضل سے پیدا کیا ہے۔تم خواہ کتناہی مال خرچ کرتے تب بھی اتفاق نہیں پیدا کر سکتے تھے۔لاکھوں دلوں کا جمع کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔یہ درست ہے کہ انسانی کوششوں کا بھی اس میں دخل ہوتا ہے، لیکن اتفاق پیدا کرنا انسان کے نبی کا نہیں ہوتا۔خدا اسے اپنے فضل سے ہی کر دیتا ہے۔کیونکہ اسباب اس قدر نہیں ہوتے جس قدر وہ نتائج عطا فرماتا ہے نہیں کوشش کے نتیجہ میں اتفاق پیدا نہیں ہوتا۔بلکہ فضل کے طور پر اللہ تعالی پیدا کر دیتا ہے جب اس مشکل سے بات حاصل ہوتی ہے۔تو اس کی بے قدری کتنی بڑی غلطی ہے۔جب یہ انسانی کوششوں سے ملتی ہی نہیں بلکہ محض خدا کے فضل سے ہی ہے تو چاہیئے کہ اس کے ملنے پر لوگ اس کی قدر کریں۔مگر نہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسا کہ غالب نے کہا ہے۔اور بازار سے لے آئیں گے گر ٹوٹ گیا جام جم سے مرا جام سفال اچھا ہے کہتا ہے کہ میرا معنی کا پیالہ ٹوٹ گیا تو اور بازار سے لے آؤں گا کیونکہ اس کا منامشکل نہیں۔اس لے نہیں۔لیے یہ جام جم سے بہتر ہے۔کیونکہ اگر وہ ٹوٹ جائے تو اس کا ملنا ناممکن ہے۔بات یہ ہے کہ جو چیز سستی یا آسانی سے مل جائے۔اس کی قدر نہیں کی جاتی۔افسوس کہ اتفاق کو ایسا ہی سمجھ کر قدر نہیں کی جاتی۔حالانکہ جب یہ توڑ دیا جائے پھر اس کا جبرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ہاں جب اللہ تعالے چاہتا ہے تو ایک بہت بے عرصہ کے بعد اس کے لیے خاص سامان مہیا کرتا ہے۔تب جاکر اتفاق پیدا ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدیم سے یہ سنت ہے کہ جب اس نے کسی جماعت کو نا اتفاقی سے بچا نا ہوتا تو اس میں فساد کرنے والے حصہ کو نکال دیتا ہے۔جیسا کہ ہماری جماعت میں جب ایک ایسا عصر پیدا ہو گیا۔جو اتفاق و اتحاد کو توڑنے والا تھا۔تو اللہ تعالیٰ نے اس کو جماعت سے نکال دیا۔اس سے غرض یہ تھی کہ ہم میں پھر نا اتفاقی نہ پیدا ہو مگر با وجود خدا کے اس فضل کے بعض لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اور ایسے طریق پر چلتے ہیں جس سے فساد ہو۔اس زمانہ میں سوائے احمدیوں کے اور کوئی جماعت نہیں ہیں میں مذہب کی خاطر اتفاق ہو