خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 548

۵۴۸ تھا کہ سرکارہ بچوں کو مارنا چاہتی ہے۔اس لیے جب ٹیکا لگانے والے آتے تو بچوں کو چھپا دیتے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ محض اس ماں باپ کی بدگمانی کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں بچے ہلاک ہو جاتے اور ان کی صورتیں بگڑ جاتیں۔تو یہ ماں باپ کے غلط تجربے اور محض بدگمانی کا نتیجہ تھا۔جو بچوں کو بھگتنا پڑتا تھا لیکن خدا تعالیٰ کے احکام کی یہ حالت نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے۔اور اس کا علم ازلی اور حکمت ازلی ہے۔بعض لوگ ہوتے ہیں جو پوچھا کرتے ہیں کہ عصر کی چار رکعتیں کیوں ہیں ؟ اور مغرب کی تین کیوں ؟ لیکن ان کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ڈاکٹر جب دوا دیتا ہے تو وہ نسخہ میں بعض مقاول کے تین قطرے لکھتا ہے۔بعض کے چار۔بعض کے زیادہ بعض کے گم۔مریض کا یہ حق نہیں کہ پوچھے کہ دوائیں کم وبیش کیوں ڈاتا ہے۔اگر کوئی پوچھنے پرمصر ہو تو ڈاکٹر نسخہ کو پھاڑ دیگا۔پس ڈاکٹر جو لکھتا ہے مریض کو قبول کرتا پڑتا ہے۔اور بعض دفعہ ڈاکٹر بھی تفصیل نہیں بتا سکتا۔اس کے پاس الفاظ نہیں ہوتے یا الفاظ تو ہوتے ہیں۔مگر وہ نتیجہ حسب منشار نہیں نکال سکتا، مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔اگر وہ کسی چیز کی تفصیل بیان نہ کرے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ انسان اس مطلب کو نہیں سمجھ سکتا۔اور اس فرق کو معلوم نہیں کر سکتا۔اگر ڈاکٹر نہیں جانتا۔تو اس پر اعتبار کیا جاتا ہے خدا جانتا ہے اس کے جاننے پر اعتبار نہیں کیا جاتا۔ہر چیز کا سبب ہوتا ہے مگر بہت دفعہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔نماز کی مختلف اوقات کی رکعتوں میں کی بیٹی کا سبب ہے۔مگر قدرت نے اس لیے بیان نہیں کیا کہ انسان نہیں سمجھ سکتا، ڈاکٹر لبعض اوقات دواؤں کے فرق نہیں بتا سکتا۔مگر وہ یہ کہتا ہے کہ میرا دل گواہی دیتا ہے کہ یہ دوا اس مقدار میں دینا مفید ہو گا۔اسی طرح بعض لوگ نیچا کرتا پہنتے ہیں۔بعض اونچا۔اگر پوچھا جائے تو عام طور پر نہیں بتا سکیں گے ہاں یہ کہیں گے کہ ہمارے دل کو یہ اچھا معلوم ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے وجوہ ہیں۔مگر وہ بیان نہیں کر سکتے۔پس اللہ تعالیٰ نے اگر بیان نہیں فرمایا۔تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کی اہلیت نہیں کہ اس فرق کو محسوس کر سکے۔مثلا بعض کپڑے ہیں کہ ہم آنکھ سے ان کو نہیں دیکھ سکتے۔ہاں اگر خورد میں ہو تو وہ دیکھے جاسکتے ہیں۔اگر خوردبین والا دوسرے کو کسے کہ وہ کیڑا جاتا ہے تم کو نظر نہیں آتا ہے تولوگ اس کو پاگل کہیں گے۔اللہ تعالیٰ کوئی لغو کام نہیں کرتا۔چونکہ بندہ ان فرقوں کو محسوس نہیں کر سکتا اس لیے بعض تفصیلات اللہ تعالٰی بیان نہیں فرماتا۔اس لیے مومن کو چاہیے کہ ان باتوں پر قیاس کر کے خدا کے ہر ایک حکم پر چلا چون و چرا عمل کر لیا کرے۔