خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 547

۵۴۷ (101) اپنے معاملات صاف کرو ) فرموده ۱۹ نومبر ۹۲ ) حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ”میں نے بتایا تھا کہ ایمان کی تکمیل کے لیے بہت ہی تفصیلات ہیں جن کا لحاظ ضروری ہے۔ان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اور انسان وہ فوائد حاصل نہیں کر سکتا۔جو مذہب کے ذریعہ خدا دنیا کو پہنچانا چاہتا ہے۔اس مضمون کے کچھ حصے بیان کئے تھے اور ایک بات میں اس میں سے آج بیان کرتا ہوں۔للہ تعالی نے خود ہی نوع کے نفع کی غرض سے شریعت کے قوانین مقر فرماتے ہیں۔اگر کوئی چوری نہیں کرتا ہے تو اس میں خدا کا فائدہ نہیں۔اگر کرتا ہے تو اس کا نقصان نہیں۔کوئی قتل کرتا ہے تو اللہ کا نقصان نہیں۔نہیں کرتا تو فائدہ نہیں۔وہ اپنی ذات میں کامل ہے۔انسان پیدا ہوتا یا نہ ہوتا تو اس کی حکومت پر اس کا کچھ اثر نہیں ہیں جسقدر احکام شرعیہ ہیں ان سب میں انسان کا فائدہ ہے مگر بعض احکام میں انسان کو نفع نظر آتا ہے بعض میں نہیں۔جب انسانوں کے علم و تجربہ میں فرق ہوتا ہے تو اس وقت بھی بعض باتوں کے فرق بعض کو نظر آتے ہیں۔بعض کو نہیں۔مثلاً بچے میں اور ماں باپ میں فرق ہوتا ہے۔بچہ کا فرض ہوتا ہے کہ ماں باپ کی بات بی چون ویرا مانے۔کیونکہ ماں باپ کے احکام تجربہ کی بنا پر میں اور بچر ان حالتوں سے واقف نہیں۔اگر بچہ انکار کرے۔تب لوگ اس کو ملامت کرینگے۔جب بچہ جوان ہوتا ہے تو ماں باپ بھی اس کو پہلے کی طرح کو احکام نہیں دیتے اور نہ وہ تفصیلات میں اس طرح ماں باپ کے احکام ماننے کے لیے تیار ہوتا ہے تاہم بچہ پر ماں باپ کی اطاعت فرض ہوتی ہے، لیکن ماں باپ کا تجربہ محدود ہے خدا کا محدود نہیں۔کیونکہ خدا انسان کو پیدا کرنے والا ہے۔پیدا کرنے والے سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہوسکتی بعض اوقات ماں باپ کا تجربہ غلط بھی ہوتا ہے۔مثلاً جب چیچک کا ٹیکا نکلا۔اس وقت عام طور پر لوگوں میں خیال