خطبات محمود (جلد 6) — Page 536
۵۳۶ دوبارہ یاد کرانے اور دہرانے سے زیادہ اچھی طرح یاد ہو جاتا ہے۔اسی طرح دوبارہ یاد دلانے سے ان کے قلب پر گرا نقش ہوتا، لیکن جب معلوم ہو کہ پہلے جو سبق دیا گیا ہے۔اس کا یاد کرنا تو لگ رہا۔اُسے گناہی نہیں۔تو پھر دوسری بار سبق دیتے ہوئے بوجھ معلوم ہوتا ہے۔پس گو یہ ایسا مسئلہ ہے کہ ہمیشہ دو ہرایا جائیگا۔اور اس کا دہرانا ضروری ہے مگر اب افسوس ہوتا ہے کہ اب جو دوہرایا جاتا ہے۔تو اس لیے نہیں کہ پہلا وقت گزر گیا ہے۔بلکہ اس لیے کہ پہلا کہنا ضائع گیا۔بہت لوگ تو ایسے ہیں جو سنتے ہی نہیں۔بہت ہیں جو سنتے ہیں۔مگر توجہ نہیں کرتے۔اور بہت ہیں جو سنتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے اور بہت ہیں جو عمل کرتے ہیں۔مگر ایسے طریق پرعمل کرتے ہیں کہ نتیجہ نہیں نکلتا۔اور بہت ایسے ہیں جو سنتے ہیں عمل کرتے ہیں۔ان کے عمل کے نتیجے بھی جھتے ہیں۔مگر اس کا ان کو مزا نہیں پڑتا۔اس لیے چھوڑ دیتے ہیں۔عرض کئی قسم کے لوگ ہماری جماعت میںمیں بعض تو ایسے ہیں جو اس سال سے سنتے چلائے میں کہ ان کا مان لینا ہی فرض نہیں۔بلکہ دوسروں کو منوانا بھی فرض ہے۔دیگر کبھی ان کے دل میں تحریک نہیں ہوئی کہ دوسروں کو منوانے کی کوشش کریں۔وہ سنتے ہیں۔مگر توجہ نہیں کرتے۔میرے چھوٹے بھائی میاں بشیر احمد نے سنایا کہ کالج میں ایک لڑکا پڑھا کرتا تھا۔وہ سُنایا کرتا که میرا باپ بڑا نیک ہے کئی سال سے وہ احمدی ہے مگر اس نے مجھے کبھی نہیں کہا کہ تم بھی احمدی ہو جاؤ۔تو بعض ایسے ہیں جو سالہا سال سے سنتے چلے آتے ہیں مگر ذرا ان کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔وہ خیال کرتے ہیں کہ ان باتوں کے مخاطب اور لوگ ہیں۔ہم نہیں ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اور سمجھ لیتے ہیں کہ دوسروں کو تبلیغ کرنا ضروری ہے، لیکن باوجود اس کے توجہ نہیں کرتے۔پھر بعض ایسے ہیں۔جو گنتے ہیں سمجھتے ہیں اور توجہ بھی کرتے ہیں مگر اس طرح ہا تھ پاؤں مارتے ہیں کہ جس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ان کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ ایک شخص مکان میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہو لیکن مکان کی طرف جانے کی بجائے دوسری طرف چل پڑے جس طرح وہ جتنے قدم اُٹھاتا ہے۔مرکان سے دُور ہوتا جاتا ہے۔اسی طرح ایسے لوگ جین قدر کوشش کرتے ہیں۔اسی قدر اصل مقصد سے دور ہوتے جاتے ہیں۔پھر بعض ایسے ہیں کہ کوشش کرتے ہیں صحیح طور پر کوشش کرتے ہیں۔اور ان کی کوشش کا نتیجہ بھی نکلتا ہے۔مگر جس طرح ہنڈیا کا اُبال جھٹ بیٹھ جاتا ہے۔اسی طرح وہ بھی بیٹھے جاتے ہیں۔