خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 535

۵۳۵ چارہ نہیں ہے۔اسی طرح ہم نماز پڑھتے ہیں۔ایک دن ظہر کی نماز پڑھتے ہیں۔پھر دوسرا دن آتا ہے۔پھر پڑھتے ہیں۔تیسرے دن پھر پڑھتے ہیں۔عصر مغرب عشاء اور صبح کی نمازیں بھی روزانہ پڑھتے ہیں۔ایسا ہی ہم قرآن پڑھتے ہیں۔پھر پڑھتے ہیں۔اور پھر پڑھتے ہیں اچھی اور عمدہ باتوں کو پڑھتے ہیں۔پھر اور پھر اور پھر پڑھتے ہیں۔اور کوئی کر نہیں سکتا کہ ان کا پڑھنا چھوڑ دینگے۔اگر کوئی دوسرا چھوڑ دینے کے لیے کہے۔تو ناراض ہوتے ہیں لیکن ہمیں ان سب باتوں کے دہرانے کا کوئی افسوس نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کی ہمیں ضرورت محسوس ہوتی ہے، لیکن ایک کھانا ایسا ہوتا ہے جس کے دوبارہ کھانے سے تکلیف ہوتی ہے۔ایک نماز ایسی ہوتی ہے کہ اس کے دوبارہ پڑھنے سے رنج ہوتا ہے۔تکلیف دہ کھانا ہوتا ہے کہ جب کہ بیماری کی وجہ سے پیٹ نہیں بھرتا اور بار بار کھانا کھانا پڑتا ہے۔ایسا انسان اس لیے کھانا ہیں کھاتا کہ پلا کھایا ہوا ہضم ہوگیا۔بلکہ اس لیے کہ بیماری کی وجہ سے اس کا پہلا کھانا نہ کھانے کے برابر ہو گیا ہے اور ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی ہیں میں آدمیوں کا کھانا کھا جاتا ہے اور کھاتے کھاتے کھانے کا دوسرا وقت آجاتا ہے۔مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔یہ ایک بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے۔وہ اسی طرح وہ نمازہ جو ہم دوسرے دن پڑھتے ہیں۔اس کا افسوس نہیں ہوتا۔کیونکہ پہلے دن کی نماز کا وقت گیا اور اس سے ہم نے فائدہ اُٹھا لیا۔اب دوسرے دن کی نماز کا وقت آیا ہے۔اس سے فائدہ اُٹھانا ہے۔لیکن ایک ایسی نماز جو اس وجہ سے پڑھی جاتے کہ پہلی پڑھی ہوئی نماز ضائع گئی ہے۔تو اس کا ر پر توجہ ہوگا کیونکہ ہم سجھتےہیں کہ گر سینما ٹھیک طور پر پڑھی جاتی تو اب جو وقت صرف ہوگا وہ کسی اور کام میں لگ جاتا۔مثلاً اسی وقت میں اگر چار رکعت نفل پڑھے جاتے تو روحانیت میں اور زیادہ ترقی ہو جاتی۔تبلیغ کے لیے میں ہمیشہ یاد دلاتا رہا ہوں اور کبھی کوئی ایسا زمانہ نہ آئیگا۔کہ ہم زندہ ہوں اور ہماری اولادیں زندہ ہوں اور اس کے متعلق یاد نہ دلایا جائے۔مگر وہ یاد دلانا ایسا ہی ہوگا۔جیسا کہ ہم دوسرے وقت کھانا کھاتے ہیں۔لیکن اب یاد دلانا تکلیف دہ ہے۔کیونکہ معلوم ہوتا ہے۔پہلا یاد دلانا ضائع کیا اور اس سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایا گیا۔اگر پہلی تقریروں کا اثر ہوتا۔اور لوگ اس طرف متوجہ ہو جاتے۔تو ایک دفعہ پڑھا ہوا سبق