خطبات محمود (جلد 6) — Page 514
۵۱۴ 96 آپس میں ضلح رکھو اور صلح کراؤ فرموده ۱۵ر اکتوبر شانه 0 تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا :- دینی اور دنیاوی دونوں قسم کے کاموں کو چلانے کے لیے امن کی نہایت ہی ضرورت ہوتی ہے بغیر اس کے دونوں قسم کے کام نہیں میں سکتے۔پھر امن ملکی ہی نہیں ہوتا۔بلکہ تمدنی امن کے بغیر بھی کسی کام کا سرانجام پانا مشکل ہے یہ ضروری نہیں کہ ملک آپس میں نہ لڑیں۔بلکہ کاموں کے امن کے ساتھ چلانے کے لیے ضروری ہے کہ افراد میں بھی لڑائی نہ ہو۔خاندانوں میں لڑائی نہ ہو۔اہل محلہ آپس میں نہ لڑیں ملکوں کی لڑائی کا اثر ملکوں پر پڑتا ہے اور حکومتوں کی لڑائی کا اثر حکومتوں پر ہاں ملکوں اور حکومتوں کی جنگ کا اثر بعض دفعہ ساری دنیا پر بھی ہوتا ہے اور اس لڑائی کو زیادہ خراب اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا اثر وسیع ہوتا ہے ریہ لڑائی کے لحاظ سے افراد کی لڑائی بھی اس کے برابر ہے۔مثلاً فرانس اور جرمن کی جنگ کا نتیجہ خونریزی ہوتی مال لوٹا گیا عورتیں بیوہ اور بچے قیم ہوئے۔کھانے پینے کی چیزیں کم دستیاب ہونے لگیں۔علوم کا پینے کی نقصان ہوا، لیکن اگر دو آدمی آپس میں لڑیں تو تیجہ وہی ہو گا کسی کی جان جاتے گی۔کسی کی بیوی بیوہ اور بچے تیم ہونگے کیسی کا مال کوٹا جائے گا کسی کی عزت کو نقصان پہنچے گا۔دشمنی کے باعث کسی کی اولاد علوم سے محروم رہے گی۔غرض جو نتیجہ جرمن اور فرانس یا انگریزوں اور روس کی لڑائی کا ہوتا ہے۔وہی نتیجہ دو آدمیوں کے آپس میں لڑنے کا نکے گا۔فرق یہ ہے کہ پہلی قسم کی لڑائیوں کا اثر ہزاروں لاکھوں انسانوں پر ہوتا ہے اور دوسری قسم کی لڑائی کا اثر محدود ہوتا ہے۔ورنہ اثر ان دونوں پر بھی وہی ہوتا ہے جو ان لاکھوں یا کروڑوں پر۔بلکہ اگر غور کیا جاوے۔تو معلوم ہوگا کہ بعض اوقات افراد کی جنگ ملکوں کی جنگ کی نسبت زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔یہ لڑائی جو یورپ میں ہوئی۔اس کے باعث ہزاروں آدمی ہیں جنہوں نے فائدہ اُٹھا یا مثلاً جن کے پاس غلہ تھا۔انھوں نے نفع اٹھایا۔روٹی والوں نے نفع اٹھایا۔اسی طرح اور اشیاء میں ہوا، لیکن افراد کی جنگ میں دونوں جانب کا نقصان ہوتا ہے۔