خطبات محمود (جلد 6) — Page 51
نہیں کیونکہ یہ اس وقت دیدی جاتی ہے جس وقت ہم ابھی دنیا میں آتے نہیں ہوتے۔دوسرا قدم رحیمیت ہے اور پھر تیسرا رحمانیت جو خاص مومن سے تعلق رکھتی ہے۔تین درجہ ہیں۔اول رتمن - دوم رحیم بپھر میرا درجہ رحمن پہلے رحمانیت ہوتی ہے اور پھر رحیمیت۔اس کے بعد خاص رحمانیت اور یہ رحمانیت جو آخری درجہ کی ہوتی ہے اور مومنوں سے ہی خاص ہوتی ہے اس کو بھی اللہ تعالے کسی اعمال اور نیکی کے بدلہ میں نہیں لانا چاہتا۔مثلاً نبوت ہو ہے۔وہ ایک موہت ہے اور یہ رحمانیت ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کسی کا فر مشترک اور بد کار کو نبی بنا دے، بلکہ اس رحمانیت کا نزول نیک اور پاک بندوں پر ہی ہوتا ہے۔نبوت تو بڑا درجہ ہے۔الہام کا درجہ بھی موہبیت سے ہی ملتا ہے۔قرآن شریف میں آتا ہے۔الرحمن علم القرآن خلق الانسان علمه البيان (الرحمن: ٣) پس یہ رحمانیت خاص ہوتی ہے۔ورنہ پہلی قسم کی رحمانیت میں بعض کا فرا نبیاء کی نسبت زیادہ ہوئے تازہ اور جسیم ہوتے ہیں۔ان کی صحت بھی بوجہ بے فکری کے زیادہ بھی ہوتی ہے اور نہی کمزور اور بمیار ہوتے ہیں۔چونکہ پہلی رحمانیت کو بیان کر دیا گیا تھا۔اس لیے فرمایا اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِین - اب رحیمیت کے ماتحت کام ہوگا اور پھر بعد میں رحمانیت شروع ہو گی۔پھر جو مالک یوم الدین کی صفت آتی ہے۔اس میں تغیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو پیدا کیا جائے گا۔اب تغیر دو ہی قسم کا ہو سکتا ہے۔نیک اور مفید یا دوسرا وہ جو سزا کے باعث ہو۔تو سورۃ فاتحہ میںایک عظیم تغیر کا ہونا بیان کیاگیا ہے۔تغیر تو ہوگا کیونکہ تمام انسان تغیر پذیر ہیں اچھا بھی تغیر ہو گا اور بُرا بھی۔اور یہ دونوں تغیر ربوبیت کے ماتحت آسکتے ہیں۔خراب کو وہ کاٹ دیتا ہے اور عمدہ کو برقرار رکھتا ہے۔اگر کوئی کمالی باغ کے درختوں میں سے بعض کو کاٹ دے اور بعض کی شاخوں کو الگ کر دے۔تو کوئی نہیں کہے گا کہ یہ مالی باغ کو برباد کر رہا ہے۔پیس ریو بیت دو قسم کی ہوتی کہ بعض دفعہ گرا کر ہی تغیر پیدا کیا جاتا ہے۔اگر کوئی طبیب کسی مریض کو دست آور دوائی دیتا ہے تو وہ نادان ہے۔جو یہ کہے کہ طبیب نے تو الٹا اس مریض کو کمزور کر دیا اور اس کی انگلی طاقت کو بھی کھو دیا۔یہ کمزوری نہیں پیدا کی گئی۔بلکہ آئندہ طاقت پیدا کرنے کے لیے ایک ذریعہ اختیار کیا ہے۔پس تغیر دو قسم کے ہوتے ہیں۔اچھے بھی اور بڑے بھی۔اس لیے آپ لوگوں کو دعا کرنا چاہیتے اور چٹنی رہنا چاہیئے کہ آپ میں جو تغیر ہو وہ اچھا ہو۔