خطبات محمود (جلد 6) — Page 508
اعتقاد کو پھیلانا ضروری سمجھتے ہیں۔دوسرا حصہ اعمال کا ہے۔آگے اس کے بھی دوستے ہیں۔اول خود عمل کرنا (۲) دوسروں سے عمل کرانا۔جس طرح خود کئے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا اسی طرح دوسروں سے عمل کراتے بغیر بھی کم نہیں ہوتا جو خودنماز پڑھتا ہے گھر دوسروں کو دیکھتا ہے کہ نماز نہیں پڑھتے خود حج کرتا ہے مگر دیکھتا ہے کہ لوگ ہیں جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتے۔مالدار ہے خودزکواۃ دیتا ہے گر دیکھتا ہے لوگ مالدار ہو کر زکواۃ نہیں دیتے اور یہ انکو نیک کاموں کے کرنے کی تحریک نہیں کرتا اور انکو ترغیب نہیں دیتا۔تو پتا مومن نہیں کہلا سکتا کیونکہ خدا نے مومن کے دو فرض رکھے ہیں۔پہلا فرض تو یہ ہے که خود مانو اور دوسرایہ ہے کہ دوسروں سے منوا۔اسی طرح یہ کہ نیک اعمل خود کرو اور دوسروں کو تحریک کرو کہ وہ بھی کریں۔اگر سپن فرض پورا کرنا ضروری ہے تو دوسرا بھی ضروری ہے کیوں جہاں یہ حکم ہے کہ خدا کو ایک مانو۔وہاں یہ بھی حکم ہے کہ دوسروں سے ایک منوا۔اس طرح رسولوں کو مانو اور منواؤ اور ملائکہ کومانو اور مواد حشر نشر کو مانو اور مواد - دعوة الى بغیر کرد۔اور دوسروں سے گراؤ- بداخلاقی چھوڑو اور دوسروں سے چھوڑا اور شرک خود نہ کرو۔اور دوسروں کو اس سے روکو، لیکن اگر خود احکام کی تعمیل کرو گے۔اور دوسروں سے تعمیل نہیں کراؤ گے۔تو قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ خود تعمیل احکام الہی کرتے ہیں۔مگر دوسروں سے نہیں کراتے۔وہ عذاب الٹی سے نہیں بچ سکتے۔پس یہ کوئی وجہ نہیں کہ کہدیا جائے۔ہم خود مانتے ہیں۔دوسروں سے کیا منوائیں نہیں جس طرح خود ماننا اور نمی کرنا فرض ہے۔اسی طرح دوسروں سے منوانا اور تعمیل کرانے کا بھی حکم ہے۔اگر کوئی ایک حکم کو توڑتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ کل دوسرے کو بھی توڑ دے۔آج ایک حکم چھوڑا۔کل دوسرے کو چھوڑ دے۔اور کہدے کہ میں اعتقاد رکھتا ہوں۔اعمال کی ضرورت نہیں ہے۔یا خدا رسول ملائکہ کو مانتا ہوں۔کتب کو نہیں مانتا۔یا فرشتوں کو مان لے اور کہے کہ رسولوں کو ماننے کی کیا ضرورت ہے۔خدا پر ایمان رکھتا ہوں یا اسی طرح خدا کا بھی انکار کر دے۔یا اعمال میں کہدے روزے نہیں رکھے جا سکتے زكوة باوجود فرض ہونے کے نہیں دی جاسکتی۔یاکسی کو نماز بوجھل معلوم ہو تو اس کو ترک کر دے۔دراسل شریعت نے جس قدر احکام دیتے ہیں ان سب کا انسان مکلف ہے۔اس کی ذمہ واری ہے کہ ان کو پورا کیے۔قرآن کریم جہاں امر بالمعروف کا حکم دیتا ہے۔وہاں یہ ہیں کہا کہ کرد یان کرد، بلا استثنا کے سب کو کہتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔پھر فرماتا ہے۔تُعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقوى المانہ، 8 : ۳) کہ نیکی اور تقویٰ میں تعاون یعنی ایک دوسرے کی مد کرو۔یہ ہیں فرمایا کہ تقسیم کرلو۔کوئی