خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 507

95 دین کے حکموں کو خود مانو اور دوسرں سے منواؤ فرموده در اکتوبر ۱۹۲۰ ته حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اسلام کے دو بڑے حصے ہوتے ہیں جن سے لوگ بالعموم نا واقف ہوتے ہیں (1) اعتقاد اعمال- اعتقاد کے حصہ کی جب تک تکمیل نہ ہو۔اس وقت تک اسلام مکمل نہیں ہوتا۔اور اسی طرح اعمال کے حصہ کی بھی جب تک تکمیل نہ ہو۔ایمان تکمیل نہیں پاتا۔پھر اعمال کے بھی دوھتے ہیں۔اور اعتقاد کے بھی دوھتے ہیں۔عقائد کے دو حصوں میں سے بھی ایک حصہ عمل میں چلا جاتا ہے۔عقاید کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ انسان خود ایمان رکھے بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں میں ان عقائد کو پھیلائے گویا عقاید بھی اعمال میں آجاتے ہیں۔تو اسلام کی تعلیم ہے کہ جس طرح صحیح عقائد کا ماننا ضروری ہے اسی طرح ان صحیح عقاید کا پھیلانا بھی ضروری ہے۔ایک شخص خواہ کتنا ہی صحیح اور پختہ اعتقاد رکھے مگر اس صحیح اعتقاد کو پھیلاتے نہیں۔وہ پکا مومن نہیں ہو سکتا۔سب سے بڑے پکتے مسلم اور مومن انبیا ہ ہوتے ہیں گر یہ بھی نہیں ہوگا کہ وہ اپنی ذات تک ہی ان اعتقادات کو رکھیں اگر کوئی کہے کہ وہ تو مامور ہوتے تو اسکا پہلا جواب تو یہ ہے کہ چونکہ انبیا۔اعلی درجہ پر ہوتے ہیں اس لیے تبلیغ کے کام کو ان کے سپرد کرنا اس کام کی اہمیت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ اتنا اہم کام ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے لیے انبیاء مبعوث فرماتا ہے۔دوسرے ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء کے جو عقیقی متبعین ہوتے ہیں۔وہ انبیا ء ہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔حالانکہ وہ مامور نہیں ہوتے۔سب سے زیادہ حالات ہمیں صحابہ کے ملتے ہیں اور ان میں سے بعض کے یہاں تک اقوال ملتے ہیں۔مثلاً وہ کہتے ہیں۔اگر ہماری گردن پر تلوار ہو اور ہمیں آنحضرت کا کوئی ایسا قول معلوم ہو جو اوروں کو معلوم نہیں۔تو قبل اسکے کہ تلوار ہماری گردن جدا کرے ہم اس کو لوگوں تک پہنچا دینگے لیے تو وہ بھی اپنے بخاری کتاب العلم باب العلم قبل القول والعمل