خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 384

(71) اپنے فوائد کوجما ع کے فوائد پر قربان کرو فرموده ۳۰ جنوری نه شاه حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ: انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسے قوانین کے ماتحت پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی کو ایسے آئین کے ماتحت رکھا ہے کہ وہ ہر وقت کسی نہ کسی احتیاج میں مبتلا ہوتا ہے۔اور اس کے مدنی الطبع ہونے کی وجہ سے یہ ایک دوسرے سے ملکر کام کرنے کا محتاج ہے اور اس میں لیاقت ہے کہ دوسروں سے ملکر اپنی آسائش و آرام کے کام کرے۔اس طاقت کے ماتحت اس کو بہت سی ضروریات پیش آتی رہتی ہیں اور انسان طبعاً اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے آرام کو دوسروں سے مقدم کرتا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ اپنی تکلیف کو سمجھتا ہے۔اور خیال کرتا ہے کہ اس کا حق دوسروں کی نسبت زیادہ ہے۔انسان اپنی مشکلات کو سمجھ سکتا ہے۔دوسروں کی مشکلات کو نہیں سمجھتا۔اس لیے یہ اپنے حق کو دوسروں کے حقوق پر خالق سمجھتا ہے۔بیمار اپنی تکلیف کو زیادہ سمجھتا ہے اس لیے وہ شکایت کرتا ہے کہ ڈاکٹر نے دوسرے کو پہلے دیکھنا مجھے بعد میں ، ایک سائل کا یہ خیال ہے کہ میں زیادہ حقدار ہوں۔تجارت میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ایک شخص سودا خرید نے جاتا ہے۔وہ شکایت کرتا ہے کہ مجھے بعد میں سودا دیا گیا۔اور بعض کو مجھ سے پہلے دیا گیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ضرورت کو زیادہ محسوس کرتا ہے۔دوسرے کی ضرورت کا اس کو احساس نہیں ہوتا۔اپنی چھوٹی ضرورت کو دوسرے کی بڑی ضرورت پر ترجیح دیتا ہے۔تمدن وحکومت کے فوائد کو علیحدہ کر کے اگر دیکھا جائے تو مذہب نے اس غلطی سے دنیا کو خوب آگاہ کیا ہے۔تمدن و سیاست نے بھی اس بات کی تعلیم دی ہے۔مگر یہ کہ اپنے اپنے حلقہ ہیں۔دوسروں کے لیے نہیں۔مگر مذہب نے اس تعلیم پر خاص زور دیا ہے۔اخلاق کی بنیاد ہی اس مسئلہ پھر ہے کہ اپنے خیالات - جذبات، احساسات اور احتیاجات کو دوسروں پر مقدم نہ کیا جائے لوگوں کی