خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 29

خیال تھا ک میں بڑا بہادر ہوں۔اس نے سوچا کہ بہادری کی کوئی علامت بھی تو ہونی چاہیتے۔اس کے لیے اس نے شیر کی تصویر بازو پر گدوانی چاہی۔پچھلے زمانہ میں گردانے کا بہت رواج تھا۔وہ گودنے والے کے پاس گیا۔اور جاکر کہا کہ میرے بازو پر شیر کی تصویر بنادے جب وہ بنانے لگا اور سوئی سے بازو پر ایک دو کچھ کے دیئے۔تو پوچھنے لگا کیا بناتے ہو۔اُس نے کہا شیر کی دوم بنا تا ہوں۔اس نے کہا اگر شیر کی دم نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں۔جواب ملا کیوں نہیں۔کہنے لگا پھر چھوڑ ڈوم کو کچھ اور بنا۔اس نے جو سوئی چھوٹی اور اسے تکلیف ہوئی تو پوچھا کیا بناتے ہو۔تو جواب ملا شیر کا بایاں کان بنا تا ہوں۔کہنے لگا اگر بایاں کان نہ ہو تو شیر نہیں ہو سکتا۔اس نے کہا کیوں نہیں۔کہنے لگا اس کو بھی چھوڑ اور آگے بنا۔غرض جب وہ سوئی لگاتے اور تکلیف ہو تو پوچھے۔کیا بنانے لگے ہو۔وہ کسی عضو کا نام لے دے اور وہ کہہ دے کہ اس کے بغیر بھی شیر رہ سکتا ہے یا نہیں۔جواب ملے کہ ہاں۔وہ کسے اس کو چھوڑ دے اور دوسرا عضو بنا۔اسی طرح جب سارے اعضاء کے متعلق ہو چکا تو گودنے والے نے کہا چاہتے اپنے گھر کی راہ لیجئے۔کیونکہ ایک ایک کر کے سارے اعضاء جاتے رہے تو پھر شیر کیا رہا۔و شخص گودنے والے سے یہ نہیں پوچھتا تھا کہ اگر کوئی بھی عضونہ رہے تو کیا شیر رہ سکتا ہے۔بلکہ وہ پوچھتا تھا کہ فلان عضو ندر ہے تو شیر رہتا ہے یا نہیں۔اس کا جواب تو یہی تھا۔کہ ہاں اگر یہ نہ ہو تو شیر رہ جاتا ہے لیکن شہر نام تمام اعضاء کے مجموعہ کا ہے جب وہ نہیں تو شیر نہیں۔اور جب یہ کہا جائے کہ فلاں عضو بھی نہ سہی۔فلاں بھی نہ سمی، تو ہی کیوں نہ کہا جائے کہ کچھ بھی نہ سی۔اور اس طرح شیر تو کیا چو ہا بھی نہیں رہتی نتیجہ کیا ہوا۔ہیں کہ کچھ بھی نہیں۔ایسے ہی کئی انسان ہوتے ہیں۔وہ تفصیل میں رہ جاتے ہیں۔جب وہ ایک ایک جزو کا انکار کرتے چلے جاتے ہیں۔تو باقی کچھ بھی نہیں رہتا کیونکہ ایمان تو ان کے مجموعہ کا نام ہے۔بعض لوگ ڈاڑھی نہیں رکھتے۔اگران کو کہا جائے کہ کیوں منڈا تے ہو تو کہیں گے کیا ایمان ڈاڑھی کے میں آگیا۔ڈاڑھی رکھی تو کیا نہ رکھی تو کیا۔پھر آگے قدم اُٹھنا ہے بعض کہہ دیتے ہیں بنتیں کیا ضروری ہیں۔فرائض ہی اصل ہیں سینتیں نہ پڑھیں تو نہ سی۔پھر بعض آگے فرائض کا بھی صفایا کرتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہیں۔دل کی یاد ہی کافی ہے۔بعض اس سے بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جھوٹ نہ بولو میں انسان کو چاہیتے کہ جھوٹ نہ بولے۔روزہ کی کیا ضرورت ہے جھو کے مرنے کی کچھ حاجت نہیں۔پھر کتا ہے کہ تقویٰ اللہ اصل میں ایک الگ چیز ہے۔اس کے لیے صدقہ و زکواۃ کی کیا ضرورت ہے۔غربابہ کی پرورش صدقہ و زکوۃ پر تھوڑا ہی منحصر ہے۔رزق تو سب کو خدا نے پہنچانا ہے۔وہی ان کو پہنچائے گا۔