خطبات محمود (جلد 6) — Page 190
سکا۔تو ایسی باتیں یہاں کے لوگوں میں پیدا ہوگئیں جو پیدا نہیں ہونی چاہئیں تے ان لوگوں کی حالت اس لیے ہو گئی کہ وہ روزانہ روحانی غذا کے نہ ملنے کی وجہ سے اپنی حالت پر قائم نہ رہ سکے کیونکہ وہ تو سہارے کے محتاج ہو گئے تھے۔اب یہاں ایک غور طلب سوال پیدا ہوگیا ہے جو یہ ہے کہ قادیان کی مرکزی حیثیت تو چاہتی ہے کہ یہاں روزانہ تعلیم کا سلسلہ جاری رہے۔کیونکہ مان روزانہ باہر سے آتے رہتے ہیں۔ان کی حالت متقاضی ہوتی ہے کہ روزانہ درس تدریس کا سلسلہ جاری رہے مگر اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میاں کے لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور عادت کے باعث اگر کچھ دنوں کے لیے یہ سلسلہ رک جاتے تو ان سے بعض میں کمزوری پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے۔پس چونکہ قادیان کی مرکزی حیثیت سے باہ والوں کے لیے روزانہ درس کی ضرورت ہے اور یہاں کے لوگوں کے لیے روزانہ درس بطور عادت ہو جاتا ہے اس لیے اب درس کا سوال بہت اہم ہو گیا ہے۔میرے نزدیک یہ بات ضروری ہے کہ ہمیشہ درس جاری رہے اور مہمانوں کی ضروریات مقدم ہوں۔اور وہ لوگ جن کے لیے روزانہ درس بطور عادت ہوگیا ہے اور جو اگر درس نہ ہو تو ٹھوکریں کھاتے ہیں انہیں میں ایک نصیحت کرتا ہوں کیونکہ درس میں کبھی روکاوٹ بھی پیدا ہونا ہوتی کیونکہ بشریت ہر ایک شخص کے ساتھ لگی ہوتی ہے۔بیماریاں بھی آتی ہیں اور بھی مجبوریاں ہوتی ہیں پس میرے نزدیک وہ لوگ جو روزانہ درس سنتے ہیں۔ان کو چاہیئے کہ وہ عادت کے طور پیر اسے نہ نہیں بلکہ اپنا روزانہ محاسبہ بھی ساتھ جاری رکھیں۔جن لوگوں کو عادت ہو جاتی ہے۔وہ واقعی ابتلا۔میں پڑتے ہیں، لیکن اگر وہ محاسبہ جاری رکھیں گے تو ٹھوکروں سے بچ جائیں گے۔دیکھا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو کسی حرکت کی عادت ہو جاتی ہے۔وہ ہر وقت ان سے سرزد ہوتی رہتی ہے۔مثلاً بعض لوگوں کو ناک ہلانے کی عادت ہوتی ہے۔بعض کو خاص طور پر ہاتھ ملانے کی عادت ہوتی ہے۔وہ اسی طرح ہو جاتی ہے کہ بغیر جانے کے وہ یہ حرکت شروع کر دیتے ہیں، لیکن اگر کوئی شخص جان کر کسی کام کے لیے ہزار بار بھی کوئی حرکت کرے تو وہ اس کی عادت میں داخل نہیں ہوگی۔ایک دوست جو پرانے مخلص ہیں ان کو دیکھیا ہے کہ ان کی انگلیاں ہوتی رہتی ہیں ان سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ غیر احمدی ہونے کی حالت میں زیادہ تسبیح پھرانے کے باعث یہ عادت ہو گئی ہے۔اگر تبی نہ بھی ہو تو بھی انگلیاں بہتی رہتی ہیں۔تو اس قسم کی عادت کی وجہ غفلت ہوتی ہے اور غفلت کے باعث اعصاب خود بخود حرکات کرتے رہتے ہیں ہیں وہ لوگ جو روزانہ درسوں میں شامل ہوں وہ بطور