خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 69

خطبات محمود جلد (5) ۶۹ دے رہی ہیں کہ اسلام مر چکا ہے اس میں بالکل جان نہیں ہے اور وہ اس قدر مایوس ہو گئے ہیں کہ کہتے ہیں اب کوئی اسلام کو زندہ نہیں کر سکتا۔چونکہ وہ اپنے دلوں کو مردہ دیکھتے ہیں۔علماء صوفیاء اور گدی نشینوں کو مردہ پاتے ہیں۔اپنے امراء اور رشتہ داروں کو دیکھتے ہیں کہ دین کی طرف سے مُردہ ہو گئے اس لئے وہ نا امید ہو چکے ہیں اور یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ نہ ان کے گھروں میں نہ ان کے بازاروں میں نہ ان کی مسجدوں میں نہ ان کے حجروں میں کہیں بھی زندہ خدا کا نام نہیں ہے وہ خدا کا نام لیتے ہیں مگر صرف زبان سے۔وہ خدا کا کلام پڑھتے مگر صرف زبان سے۔ان کا جسم چلتا پھرتا نظر آتا ہے مگر اصل میں گوشت کی قبر ہے جس میں ان کی مردہ روح پڑی ہے۔ایسے نظارہ کو دیکھ کر اگر وہ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے لئے کوئی زندگی نہیں ہے تو ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ ان کی حالت ہی یہاں تک پہنچ چکی ہے۔لیکن باوجود اس کے خدا تعالیٰ نے اپنا ایک برگزیدہ انسان بھیج کر ایک ایسی جماعت تیار کر دی ہے جس کے دل زندہ اور روح زندہ ہے جس کی ہمت بلند اور حوصلہ پختہ ہے۔ہر ایک وہ شخص جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتا اور دل سے یقین رکھتا ہے گو اس کے پاس مال نہیں۔دولت نہیں حتی کہ سونے لئے اپنی جگہ بھی نہیں۔وہ جب سوتا ہے تو یہی سمجھتا ہے کہ صبح ہمارے لئے کوئی عظیم الشان فتح کی خوشخبری لائے گی اور سارا دن محنت مشقت کرتا ہے اور شام کے وقت اتنا نہیں کما سکتا کہ اس کے بال بچے پیٹ بھر کے کھا ئیں مگر شام کے لئے اس کا دل خوشی سے اُچھلتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ دن نہیں ڈوبے گا جب تک کہ میں خوشی کی کوئی بات نہیں سُن لوں گا۔وہ سب سے زیادہ مصیبت زدہ اور مشکلات میں گھبرایا ہوا ہو کر خوشخبری اور کامیابی کا امیدوار ہوتا ہے۔یہ کیا بات ہے یہی کہ زندہ قوم ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو زندگی کا بگل پھونکا گیا تھا یہ اس کے ذریعہ کھڑی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس طرف اس قدر امید ہے اور اس طرف ایسی مایوسی۔اب اگر کوئی اس زندہ قوم کو مارنا چاہے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کتنے برے فعل کے ارتکاب کا ارادہ رکھتا ہے۔ایک مومن کے قتل کرنے کی سزا خدا تعالیٰ یہ فرماتا ہے فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ (النساء : ۹۴) کہ اس کی سزا جہنم ہے لیکن جو ایک قوم کو مارتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہئیے کہ اس کے لئے کتنا بڑا عذاب