خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 68

خطبات محمود جلد (5) ۶۸ اس طرح حالت ہو گئی تھی۔جس طرح ریت میں دریا خشک ہو جاتا ہے۔اسی طرح نمودار ہو گیا۔جس طرح ریت کے اوپر بہنے والا دریا لہریں مارتا ہے۔لوگوں نے سمجھ لیا تھا کہ یہ دریا خشک ہو گیا ہے مگر خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بندے ہی کے ذریعہ بتا دیا کہ خشک نہیں ہوا۔لوگوں نے اس پر مٹی ڈال کر اسے چھپا دیا تھا۔ورنہ وہ تو اسی زور وشور سے جاری ہے۔جس طرح پہلے تھا۔سو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ مذہب جو شکوک وشبہات سے پر ہو گیا تھا۔پھر یقین اور اطمینان دلانے والا ہو گیا۔اور وہ جماعت جو پراگندہ ہو چکی تھی بلکہ جماعت کہلانے کی مستحق ہی نہ رہی تھی اس کو خدا تعالیٰ نے ایک جماعت بنادیا یہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل تھا۔جس کی قدر وہی کر سکتا ہے جس کی آنکھیں ہوں اور جس نے دیکھا ہو کہ تو میں کس طرح ہلاک اور تباہ ہو ا کرتی ہیں۔پھر اس شخص کو اس کی قدر ہو سکتی ہے جو تاریخ سے واقف ہو۔اور یہ بھی جانتا ہو کہ اسلام کس حالت میں ہو گیا تھا۔جسے حضرت مسیح موعود نے آکر کھڑا کیا ہے۔گویا اسلام کو کھڑا کرنا قبر میں ڈالے ہوئے مُردے سے بھی بڑھ کر تھا۔نادان سمجھتے ہیں کہ خدا مردہ جسم کو زندہ نہیں کر سکتا۔انسان جب ایک دفعہ مرجاتا ہے اور اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے تو پھر کبھی زندہ نہیں ہو سکتا۔لیکن اگر وہ اپنی آنکھیں کھولیں اور اس بات پر غور وفکر کریں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ کسی مردہ کے زندہ کرنے سے کسی قوم کا زندہ کرنا نہایت مشکل ہے۔مردہ انسان آسانی سے زندہ ہو سکتا ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک قوم مرجائے اور اس کو زندہ کیا جائے اس دلیل کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔کہ دیکھو ہم ایک مردہ قوم کو زندہ کریں گے اور یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ایک دن ہم مردہ انسان کو بھی زندہ کریں گے۔تو یہ خدا کا بڑا ہی فضل ہے کہ مسلمان جو ایک مردہ قوم تھی اس میں سے ایک زندہ قوم کھڑی ہو گئی اس لئے خدا تعالیٰ کا جتنا بھی شکر کیا جائے تھوڑا ہے۔لیکن کئی ایسے آدمی ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو گھبرا جاتے ہیں۔اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کس طرح یہ مصیبت دور ہوگی۔ایسے لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ جاؤ ان لوگوں کو دیکھو جو مسلمان کہلاتے ہیں۔اور اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ان کا دل تو الگ رہا ان کی زبانیں بھی اس بات کے لئے گواہی