خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 601 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 601

خطبات محمود جلد (5) ۶۰۰ ذلت کا موجب بنتی ہے۔وہ جس قدر زیادہ ہلاکت سے بچنے کیلئے زور لگاتے ہیں اسی قدر زیادہ غرق ہوتے جاتے ہیں۔یہی کہ انکی کوشش غلط طریق پر ہے۔دلدل سے بچنے کا ایک ہی طریق ہوتا ہے۔اور وہ یہ کہ بیرونی مدد آئے۔اور اس کے ذریعہ باہر نکلا جائے۔پس دلدل میں پھنسے ہوئے انسان کو چاہیے کہ باہر سے جو رستہ اس کے نکالنے کیلئے اسکی طرف پھینکا جائے۔اسے پکڑے اور اسکے ذریعہ باہر آ جائے۔چونکہ ایک زمانہ مسلمانوں پر ایسا آنا تھا۔اور ایسے خطرناک دلدل میں پھنسنا تھا جس سے انہیں کوئی دنیاوی کوشش نہیں نکال سکتی تھی۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اس وقت مسیح اترے گا جو ان ڈوبتوں کو بچالے گا۔کیونکہ جب ایسی حالت ہو جایا کرتی ہے تو صرف ایک ہی علاج کارگر ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا کی طرف سے مدد آئے۔اور خدا ڈوبتوں کے بچاؤ کے لئے آسمان سے رسی ڈالے۔چونکہ انبیاء حبل اللہ ہوتے ہیں۔اس لئے اس وقت خدا نے دنیا کو بچانے کیلئے حضرت مسیح موعود کو بھیجا۔مگر افسوس کہ جب خدا نے ان کیلئے یہ حبل اللہ اتاری تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس کو پکڑتے۔انہوں نے رتی کو کاٹنا شروع کر دیا۔اس وقت جو مسلمانوں کی حالت ہے۔وہ بد سے بدتر ہورہی ہے۔مگر کیسی افسوسناک بات ہے کہ انہوں نے بجائے اس رتی کو پکڑنے کے جو ان کو بچانے کے لئے ڈالی گئی تھی۔چاہا کہ کاٹ ڈالیں۔اس کا کیا نتیجہ ہوگا۔ظاہر ہے کہ ہلاک ہوں گے۔یہ بیمار تھے۔خدا نے ان کے لئے طبیب بھیجا۔مگر انکی تمام تر کوشش اسی ایک امر پر آرہی ہے کہ اس طبیب کو ہلاک کر دیں۔یہ اپنی بیماری اور اپنا ڈ و بنا بھول گئے۔اس طبیب کی تباہی اور اس حبل اللہ کو کاٹنے کے درپے ہو گئے۔اس کے کٹ جانے پر کس کو خوشی ہوگی۔کیا اسلام کو۔ہرگز نہیں۔بلکہ اسلام کے دشمنوں کو خوشی ہوگی۔لیکن کیا یہ حبل اللہ کٹ جائے گا۔ہر گز نہیں۔اس کے کاٹنے والے ہی کٹ جائیں گے۔انکی کوششوں کا وہی نتیجہ ہوگا جو ہمیشہ حق کی مخالفت کرنے ے صحیح مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة باب خروج الله قبال ونزول عیسی بن مریم