خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 600 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 600

خطبات محمود جلد (5) ۵۹۹ دنیاوی طور پر ترقی کرتے ہیں۔لیکن مسلمان ان کے مقابلہ میں ایسے نہیں۔اس وجہ سے ان پر عذاب اور مصیبتیں آتی ہیں اور وہ دنیا میں ترقی کی بجائے تنزل کرتے ہیں۔عیسائیوں میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو عیسائیت سے الگ ہیں۔ہندوؤں میں ہزاروں ایسے ہیں جو مذہب سے بالکل بے تعلق ہیں۔وہ خدا کو نہیں مانتے۔وہ نیچر کے پرستار ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ نیچر ہی ہماری پیدائش کا ذریعہ ہے۔اور ہم نیچر کے ذریعہ ہی ترقی کر سکتے ہیں۔لیکن دنیا کی کوئی راحت نہیں جو ان کو حاصل نہیں۔ان کے مقابلہ میں مسلمان نسبتا زیادہ مذہب کے پابند ہیں۔پھر بھی مصائب و آلام کا شکار ہورہے ہیں۔اس کی وجہ سمجھتے ہو کیا ہے؟ یہی کہ وہ لوگ جن مذاہب کو چھوڑ رہے ہیں۔وہ باطل تھے۔ان میں اس وقت حق نہیں تھا۔اس لئے انہوں نے ان مذاہب کو چھوڑ کر کوئی جرم نہیں کیا۔بلکہ ان کے لئے ترقی کا میدان کھل گیا ہے مگر مسلمانوں نے جس مذہب کو چھوڑا ہے وہ باطل نہیں بلکہ حق ہے۔اس لئے انہوں نے ایک بہت بڑا گناہ کیا ہے۔لہذا ضروری تھا کہ ان کو اس کی پاداش میں مبتلائے آلام کیا جاتا۔غیر مذاہب کے لوگوں سے اسلام نہ قبول کرنے کی وجہ سے عاقبت میں باز پرس ہو گی۔مگر مسلمانوں کو یہاں بھی مؤاخذہ سے بری نہیں کیا جا سکتا۔اور وہ اسی وجہ سے مصائب اور تکالیف کا شکار ہور ہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی گئی کہ خدا یا ہمیں ان لوگوں میں سے نہ بنانا جو انعام یافتہ ہو کر پھر تیرے عتاب کے نیچے آئے اور تیرے دربار سے نکال دیئے گئے۔آج مسلمانوں کی جو حالت ہے وہ پوشیدہ نہیں۔ان کے لئے کوئی ترقی کا راستہ نہیں۔گرے ہوئے ہیں۔اور تھک کر بیٹھ گئے ہیں۔یہ اپنے آپ کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے ہاتھ پیر مارتے ہیں لیکن اور زیادہ لہروں کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔ان کی مثال دلدل میں پھنسے ہوئے انسان کی مانند ہے۔جو نکلنے کے لئے جس قدر زور لگاتا ہے اسی قدر دھنستا چلا جاتا ہے۔اور آخر غرق ہو جاتا ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ ذلت اور رسوائی سے نکلنے کیلئے جو بھی کوشش کرتے ہیں وہ انکے لئے اور زیادہ