خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 596

خطبات محمود جلد (5) ۵۹۵ سکتا ہے کہ لا إله إلا اللہ کا صحیح طور پر اقرار کرتے ہیں۔آجکل ہی جو سیاسی شور پڑا ہوا ہے۔اس میں لاکھوں مسلمان ایسے ہیں جو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔وہ اگر حاصل ہو گئی تو ہمیں سخت نقصان اٹھانا پڑے گا مگر باوجود اس جاننے کے چونکہ انہیں یہ خوف لگا ہوا ہے کہ اگر ہم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی تو لوگ ہمیں خوشامدی کہیں گے۔اس لئے وہ بھی ساتھ شامل ہو گئے ہیں یہ تو ایک بات ہے۔ان کے ہر کام میں یہی نقص اور غلطی نظر آتی ہے۔حالانکہ اسلام کا اصل الاصول یعنی کلمہ شہادت انہیں بتلاتا اور آگاہ کرتا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہئیے بلکہ خدا کو ایک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اسکا رسول ماننا چاہئیے۔یعنی ان کے مقابلہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئیے جس سے ڈر اور خوف پیدا ہو۔اور راستی کو چھوڑ دیا جائے۔جب ہم یہی بات مذہب کے متعلق دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے اس میں بھی یہی کمزوری دکھائی جاتی ہے۔ہماری جماعت میں ہی ایک اختلاف پیدا ہوا۔اور اسکی وجہ سے کچھ لوگ الگ ہو گئے۔اگر ان کے الگ ہونے کی سب سے بڑی وجہ دیکھی جائے تو یہی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم حضرت مرزا صاحب کو نبی کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔اور ان کے نہ ماننے والوں کو کافر کہیں تو لوگ ہماری مخالفت کرتے ہیں۔اور انکے جوش ہمارے خلاف بھڑک اٹھتے ہیں۔لیکن یہ وہی خوف اور ڈر ہے جس کا لا الهَ إِلَّا اللہ میں رڈ کیا گیا ہے کہ مومن کو خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں کسی بات کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے۔اور حق کو کسی مخالفت اور دشمنی کی وجہ سے نہیں چھوڑ نا چاہئیے۔اور یہ ثابت شدہ بات ہے کہ حق کو قبول کرنے والے ہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔پس ہم نے جب حضرت مرزا صاحب کو خدا کا سچا رسول مان لیا ہے تو پھر ان کو کیوں دنیا کے سامنے پیش نہ کریں۔اور لوگوں کی مخالفت سے کیوں ڈرجائیں وہ ہمارا بگاڑ ہی کیا سکتے ہیں۔اس وقت تک ہمارا کیا بگاڑ لیا ہے کہ آئندہ کچھ بگاڑ لیں گے۔ہم کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئی ہیں۔ہماری جائدادیں چھینی گئیں۔ہمیں مشکلات میں ڈالا گیا۔ہم سے ہر قسم کے تعلقات منقطع کر لئے گئے۔مگر باوجود انکی ہر قسم کی مخالفانہ کوششوں کے دیکھنایہ چاہیئے کہ کیا ہم گھٹ رہے ہیں یا بڑھ رہے ہیں