خطبات محمود (جلد 5) — Page 564
خطبات محمود جلد (5) ۵۶۳ 76 خُدا کے انعام کی قدر کرو فرموده ۵/اکتوبر ۱۹۱۷ء بمقام شمله ) حضور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: غالبا اس سفر کے دوران میں یہ آخری جمعہ ہے جس کا خطبہ پڑھنے کیلئے میں آپ لوگوں کے سامنے کھڑا ہوں۔اسوقت میں مختصر ا چند ایک نصائح آپ لوگوں کو کرنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے کہ جوشخص اللہ کیلئے کچھ قربانی کرتا اسکی اطاعت اور فرمانبرداری میں رہتا اس پر تو کل اور بھروسہ رکھتا ہے۔اس پر بڑے بڑے انعام کئے جاتے ہیں۔چونکہ ہم خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث بننا چاہتے ہیں۔اس لئے ہمیں اس کا خاص خیال رکھنا پاہیئے کسی سے کچھ حاصل ہونے کی امید دوہی وجہ سے ہو سکتی ہے۔اور جس میں یہ دو باتیں پائی جائیں اس کے دروازہ سے مانگنے والا انسان کبھی مایوس اور نامراد ہو کر واپس نہیں آتا۔وہ دو باتیں یہ ہیں۔(۱) اس میں دینے کی قابلیت ہو۔(۲) اسے دینے کی عادت ہو۔تیسری بات مانگنے والے اور سائل میں پائی جانی ضروری ہے۔اور وہ یہ کہ اس میں خود پسندی اور خودی نہ ہو۔اگر پہلی دو باتیں دینے والے میں اور تیسری لینے والے میں ہو تو کبھی اسے ناکامی اور نامرادی نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں یہ تینوں باتیں بیان فرمائی ہیں۔بندہ کے متعلق تو جو کچھ ہے اس کا کرنا اسکے ذمہ ہے وہ کرے یا نہ کرے۔یہ اسکا کام ہے۔مگر اپنے