خطبات محمود (جلد 5) — Page 553
خطبات محمود جلد (5) ۵۵۲ وہ بے شمار امراض کو لا علاج جانتے تھے۔چنانچہ پرانے زمانے کے اطباء اپنی کتابوں میں بہت سی امراض کے متعلق صاف طور پر لکھتے ہیں کہ وہ امراض لا علاج ہیں۔ایسے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا لِكُلِّ داءِ دَواء لا یعنی ہر مرض کا علاج ہے۔اور آج علم کی ترقی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کر دی۔رُوحانی امراض کا علاج :- امراض رُوح کے متعلق بھی بہت سے علاج ہیں لیکن ان کو نہ جاننے کے باعث انسان ترقی سے محروم رہ جاتا ہے۔حالانکہ بعض ایسی باتیں بھی ہیں کہ جن کے باعث انسان بغیر کچھ کئے بھی بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے۔چنانچہ جن آیات کو میں نے پڑھا ہے۔ان میں بھی ایسی ہی باتوں کا بیان ہے۔فرمایا لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَج إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔یعنی ضعفاء پر اور مریضوں میں اور ان پر جو نہیں پاتے کچھ کہ جسے وہ خرچ کریں کوئی حرج یعنی اعتراض نہیں جبکہ اخلاص رکھیں اللہ اور اسکے رسول سے نہ صرف یہ کہ ان پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ خدا انہیں محسن قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ یعنی وہ لوگ محسن ہیں اور ان پر کوئی الزام نہیں کیونکہ یہ لوگ دل میں تڑپ رکھتے ہیں کہ وہ کچھ کریں لیکن ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔چنانچہ جنگ تبوک کے موقع پر کچھ لوگ آئے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگی لیکن بسبب نہ میسر آنے سواری کے وہ نہایت حزیں ہو کر واپس چلے گئے ہے۔حزن سخت غم کو کہتے ہیں۔اب یہ غم کیوں تھا کیا اس لئے کہ وہ دنیا کے مال سے محروم رہ گئے نہیں بلکہ بظاہر تو سخت خطرہ تھا۔کیونکہ یہ جنگ تو قیصر روم کے ساتھ تھا جس کی اتنی بڑی بھاری قوت تھی جس سے عرب ڈرتے تھے۔پس ان کا حزن اسلئے نہ تھا صحیح مسلم کتاب السلام باب لكل داء دواء" بخاری کتاب المغازی غزوہ عسره یعنی تبوک و سیرت ابن ہشام حالات غزوہ تبوک۔