خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 552 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 552

۵۵۱ 72 خطبات محمود جلد (5) عزم راسخ اور نیت نیک ہو تو اعلیٰ خدمات کا موقع مل جاتا ہے فرمودہ ۷ ستمبر ۱۹۱۷ء بمقام شملہ ) حضور نے تشہد وتعوذ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی:۔وَجَاءَ الْمُعَذِرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ هِ لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ (التوبه : ۹۱،۹۰) بعد ازاں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے انسان کی ترقی اور اس کی بہبود کیلئے بہت سی راہیں تجویز فرمائی ہیں۔لیکن ان راہوں کے نہ جاننے کی وجہ سے انسان بہت سی تکالیف اٹھاتا ہے انسان کے جسم کی بیماریوں کے متعلق ہی غور کرو تو معلوم ہوگا کہ ہر مرض کے لئے کئی کئی دوائیاں پیدا کی گئی ہیں۔کہیں کسی دوائی سے فائدہ ہوتا ہے۔تو کہیں کسی دوائی سے کبھی ٹیکہ لگوانے سے فائدہ ہوتا ہے تو کبھی دوائی کھانے سے۔جب تک انسان نے تمام معالجات کو معلوم نہ کیا تھا تب تک گو بہت سی امراض کو لا علاج بتایا جاتا تھا لیکن جوں جوں انسان کا علم ترقی کرتا گیا تو معلوم ہوتا گیا کہ ہر مرض کا علاج ہے۔یہاں تک کہ ہمارے زمانہ میں تو شاید ایک آدھ ہی ایسی مرض ہو کہ جس کو لا علاج بتایا جاتا ہو۔لیکن جس زمانہ میں ابھی اطباء کا علم بالکل نامکمل حالت میں تھا