خطبات محمود (جلد 5) — Page 526
خطبات محمود جلد (5) ۵۲۵ بڑھو گے تو سید ھے اس جگہ پہنچ جاؤ گے۔جہاں جانا چاہتے ہو۔اب یہ شخص اسکی ہدایت پر عمل کرے اور اپنے گھر پہنچ کر رستہ بتانیوالے کو خط لکھے کہ چونکہ میں نے آپ کی باتوں کو مانا ہے اس لئے آپ مجھ کو انعام دیں۔یہ میرا آپ پر احسان ہے کہ میں نے آپکی بات تسلیم کی کوئی سمجھدار اور عظمند ایسا نہیں کر سکتا۔اسی طرح اللہ کے جسقد راحکام ہیں وہ اس کے اپنے فائدہ کیلئے نہیں بلکہ بندوں کے نفع کیلئے ہیں اور بندوں کی ہی جان بچانے کے لئے ہیں۔اس لئے ان پر عمل کرو۔دین کی خدمت کرو اور ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔مگر یہ ضرور احتیاط کرو کہ ریاء نہ آنے پائے۔خدمت کر کے کبھی خیال نہ کرو کہ ہم نے کچھ کام کیا ہے۔اور ہمارا خدا پر احسان ہے کہ ہم نے اس کے دین کی خدمت کی ہے۔بہت سی جماعتوں نے خدا کے دین کی خدمت کی۔اور پھر اس پر فخر کیا۔اس لئے وہ ہلاک ہو گئیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی کی حالت کی طرف دیکھو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو وحی لکھوا ر ہے تھے۔زور کلام اللہ کا اس پر بھی اس قدر پڑا کہ وحی کا آخری حصہ فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِین اس کی زبان پر جاری ہو گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی لکھو۔اس نے کہا۔میں سمجھ گیا۔وحی نہیں ہوتی آپ ہی لکھواتے ہیں۔اور اس کا نام وحی رکھ دیتے ہیں۔اور یہ منصوبہ ہے اس طرح وہ رسول کریم کا منکر ہو گیا۔اس پر خدا کا ایک فضل ہوا تھا۔مگر وہ اس کو جذب نہ کر سکا۔پس خوب یاد رکھو کہ خدمت کرو۔مگر ساتھ ہی خدا سے ڈرو۔اگر تکبر کرو گے یا احسان جتلاؤ گے تو خدا کی درگاہ سے نکال دیئے جاؤ گے۔صحابہ کو ہم دیکھتے ہیں انہوں نے بڑی بڑی خدمتیں کیں۔مگر کسی پر ظاہر نہ کیا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ ہمیں یہ موقعہ ملا۔قرآن کریم میں جہاں یہ حکم ہے۔فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَات۔وہاں یہ بھی ہے۔يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تبطلوا صدقتكم بالمن والاڈی(البقرہ: ۲۶۵) کہ اپنے صدقات کو ظاہر کر کے یا احسان بتلا کر یا دوسروں کو تکلیف دیگر ضائع مت کرو۔صدقات کے اظہار کے بھی مواقع ہوتے ہیں۔تو فر ما یا چندہ دو۔مگر اس طرح نہ دو کہ وبال جان ہو جائے۔پس ان باتوں کو خوب یاد رکھو۔یہ وہ زمانہ ہے جس کا نقشہ قرآن کریم میں کھینچا گیا ہے۔آج تمام دنیا دین سے بے خبر ہے مگر رحمت کے دروازے کھولے گئے ہیں۔اور - تفسیر کبیر مصرى الجزء ۶ ص۲۷۶۔