خطبات محمود (جلد 5) — Page 457
خطبات محمود جلد (5) ۴۵۶ اور دیکھنا صرف آنکھوں سے ہی نہیں ہوتا۔بلکہ علم سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مثلاً انسان کسی ایسے بہادر آدمی کا قصہ پڑھتا ہے جس کو گذرے سینکڑوں برس ہو جاتے ہیں مگر پڑھنے والے کے دل میں اس کے حالات پڑھ کر خاص کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے پاک حالات کو دیکھا جائے۔آپ کا اُٹھنا۔بیٹھنا۔چلنا۔پھرنا۔کھانا۔پینا۔جاگنا۔سونا۔لباس اور طر ز ماندو بود۔میل و ملاقات کو آنکھوں کے سامنے لایا جائے۔جب یہ باتیں صحیح طور پر معلوم ہو جائیں گی۔تو یقینا آپ سے ایک محبت اور عشق پیدا ہو جائے گا۔یہ رویت علم کے ذریعہ ہوگی۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے لوگ واقف ہوتے تو آپ کی ہتک پر تیار نہ ہو جاتے اور خُدا سے دور نہ جاپڑتے۔اگر ان باتوں کو مد نظر رکھ کر تحقیقات مسائل ہوتو پھر کبھی کوئی جھگڑا پیدا نہیں ہوسکتا۔آپ کی محبت اور آپ سے عشق خدا کی محبت اور خُدا کے عشق کا موجب ہے جیسا کہ فرمایا۔قُل اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اگر تم اس انسان کی اتباع کرو گے۔اور اس کے ساتھ محبت رکھو گے تو خدا تم سے محبت اور پیار کرے گا تو آپ کی محبت خدا کی محبت ہے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کے حالات کا معلوم ہونا کیسا ضروری ہے۔میں نے جو آیات پڑھی ہیں ان میں آپ کے کمالات کا کچھ حصہ بیان کیا گیا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلق اگر دیکھنا ہو تو قرآن کریم کو دیکھو ہے۔اس وقت جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔دنیا کی حالت بدترین تھی۔بحر و بر میں خرابی پھیلی ہوئی تھی۔دنیا کی کوئی برائی ایسی نہ تھی جو نہ پائی جاتی تھی۔اگر چہ انسان گردو پیش کے حالات سے بہت متاثر ہوتا ہے۔اور جس قسم کا نمونہ اپنے سامنے دیکھتا ہے اس طرح خود بھی کرنے لگتا ہے لیکن باوجود اس کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو بدترین نمونہ موجود تھا۔تمام عرب برائیوں اور بدکاریوں سے بھرا ہوا تھا۔اس وقت کے عیسائیوں کی حالت خود عیسائی مؤرخ لکھتے ہیں کہ نہایت خراب ہو چکی تھی۔زرتشتی بگڑے ہوئے تھے۔ہندوستان میں اصنام پرستی اور عناصر پرستی کا زور تھا۔اس تاریکی کے زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان کا پیدا ہونا کیا کوئی معمولی بات ہے؟ فرمایا لقد جاء کم رسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ۔لوگو ذرا سوچو تو سہی کہ یہ رسول تمہارے پاس تم میں سے ہی آیا ہے۔تم میں ہی پیدا ہوا تم میں ہی رہا تم میں ہی اس نے دن رات : ال عمران : ۳۲ : - مسند احمد بن حنبل جلد ۶ ص ۲۱۶۔