خطبات محمود (جلد 5) — Page 447
خطبات محمود جلد (5) ۴۴۶ ایک تدبیر کرنی چاہئیے۔اور وہ یہ کہ جب کھانا کھانے بیٹھیں گے تو میں تمہیں کہوں گا چراغ کی بتی اونچی کر دو لیکن تم بجائے اونچی کرنے کے اس طرح کرنا کہ چراغ بجھ جائے۔پھر میں معذرت کر دوں گا کہ چراغ جلانے کا کوئی سامان نہیں آپ کو بہت تکلیف ہوئی ہے معاف فرمائیں اور اندھیرے میں ہی کھانا کھا لیں۔جب وہ اندھیرے میں کھانا شروع کریں گے تو ہم ساتھ یونہی مچا کے مارتے رہیں گے جس سے وہ سمجھیں گے کہ یہ بھی کھا رہے ہیں۔چنانچہ اسی طرح کیا گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی بتلا دیا۔جب یہ صحابی صبح گئے تو آپ ہنسے اور فرمایا کہ خدا تمہارے اس فعل سے بہت خوش ہوا ہے اور ہنسا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ ہنسا ہے۔اس لئے میں بھی ہنستا ہوں۔تو یہ تھی ان لوگوں کی شان۔اوّل تو ایک کی بجائے دو مہمان لئے۔پھر بچوں کو بھو کا سلا یا۔خود بھوکے رہے مگر یہ گوارا نہ کیا کہ مہمان بھو کے رہیں۔اور بہت سے واقعات ہیں۔مثلاً ایک دفعہ بحرین سے مال آیا آنحضرت نے انصار سے کہا کہ آؤ تمہیں مال دوں۔انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ مہاجرین ہم سے زیادہ مستحق ہیں ان کو دیا جائے۔اگر چہ اللہ کو یہ بات پسند نہ آئی کہ کیوں انہوں نے حکم نہ مانا۔مگر یہ ضرور ہے کہ فی نفسہ یہ بات بُری نہ تھی۔اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے خوب ترقی کی اور خوب بڑھے۔پس دوسری بات یہ ہے کہ نہ صرف اپنے نفس کو ہی قابو کرناسکھو بلکہ نیکی میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔تیسرا طریق یہ ہے کہ رابطوا جب ان دو مراتب کو طے کر چکو تو دشمن پر حملہ کرو پھر تمہیں گھر میں رہنے کی ضرورت نہیں۔سرحدوں پر ڈیرے ڈال دو۔جب جماعت میں صبر اور ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کرنے کی طاقت پیدا ہو جائے تو پھر اس کے لئے دشمن پر حملہ کرنا اور اس میں کامیاب ہونا آسان اور یقینی ہوتا ہے۔اس لئے فرمایا ان دو باتوں کے بعد سرحدوں کو مضبوط کر لو۔اور بجائے اس کے کہ تم پر دشمن حملہ آور ہو تم اس پر حملہ کرو۔یہ سب باتیں کرو اور ساتھ ہی اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اگر ایسا کرو گے۔توضرور فلاح پاؤ گے۔چونکہ کا نفرنس کے اجتماع کا یہ پہلا موقعہ ہے اور اس دفعہ مناسب سمجھا گیا کہ ایک ان مسلم کتاب الاشربہ باب اکرام الضیف۔بخاری کتاب مناقب الانصار باب قول النبی بالا نصار - اصبر واحتی تلقونی علی الحوض۔