خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 440

۴۳۹ 54 خطبات محمود جلد (5) احمدیہ کا نفرنس کے متعلق فرموده ۶ را پریل ۱۹۱۷ء حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد یہ آیت پڑھی:- يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( آل عمران : ۲۰۱) بعد ازاں فرمایا:- اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم اور احسان سے بنی نوع انسان کی ہدایت اور روحانی ترقی کے لئے اپنی صفت رحمانیت کے تقاضا کے ماتحت جس قسم کے سامانوں کی ضرورت تھی تمام مہیا کر دیئے ہیں اور کوئی چیز جو انسان کی روحانیت کے لئے ضروری ہو ایسی نہیں جس کے نازل اور مہیا کرنے میں دریغ کیا گیا ہو۔چنانچہ جس محبت اور پیار۔جس رحم اور کرم سے خدا تعالیٰ پہلے لوگوں کو دیکھتا تھا جس شفقت کی نظر ان پر تھی۔اس مہربانی اور رحم وکرم سے ہم کو دیکھتا ہے۔اور وہی نظر ہم پر ہے۔اس کے رحم اور فضل کے سامانوں میں سے انبیاء کی بعثت بھی ایک سامان ہے۔اس سے بھی ہم کومحروم نہیں رکھا گیا۔اس زمانہ میں انبیاء کی اطاعت تو الگ رہی۔لوگوں نے تو یہ بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ اب کوئی نبی ہی نہیں آئے گا۔اور کہا کہ اگر کوئی نبی آئے تو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہوگی۔یہ خیال قائم کر کے بعثت انبیاء اور ان کی اطاعت سے مخلصی حاصل کر لی تھی۔مگر اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک نبی مبعوث کر کے اپنی صفت رحمانیت کے ماتحت ہم پر خاص احسان کیا ہے۔لیکن جہاں خدا تعالیٰ رحمن ہے۔وہاں رحیم بھی ہے۔جہاں اس نے صفت رحمانیت کے ماتحت ہمارے لئے سامان مہیا کئے ہیں۔وہاں اس کی صفت رحیمیت اس بات کی مقتضی ہے کہ اس کے ماتحت کام کر کے فائدہ اٹھایا جائے اور یہ وہ لوگ کر سکتے ہیں جو اس کے فضل سے رحمانیت کے انعام کے وارث ہو چکے ہیں۔اور وہ ہماری ہی جماعت کے لوگ ہیں۔اس کے مطابق ہماری جماعت کے لوگ کام کرتے ہیں۔اور ہر ایک جائز طریق سے کوشش