خطبات محمود (جلد 5) — Page 436
خطبات محمود جلد (5) ۴۳۵ ایسے موقعہ پر وہ بُرا منا تا۔اور چڑتا ہے تو معلوم ہوا کہ وہ اپنا کچھ حق سمجھتا تھا۔اس وقت پتہ لگ جاتا ہے کہ واقع میں اس میں تو اضع تھی یا تکلف کے طور پر تواضع کا اظہار کرتا تھا۔لیکن جو لوگ اس قسم کے امتحانوں میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔وہی اس بات کے مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کے لئے خدمت کرنے والے سمجھا جائے۔لیکن ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔اکثر ایسے ہی دیکھے گئے ہیں کہ اپنے نزدیک جو اپنا وہ درجہ قرار دے لیں اگر اس کے خلاف اُن سے سلوک ہو جائے تو سب انکسار اور تواضع بھول جاتے ہیں۔اور کہہ اُٹھتے ہیں کہ ہماری خدمات کا کوئی لحاظ نہیں کیا گیا۔یہی حال دینی امور میں بھی ہوتا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب کسی دینی امر میں کسی اور کو ان پر فوقیت مل جائے تو اعتراض کرنے شروع کر دیتے ہیں۔پھر جن باتوں کا فیصلہ خدا تعالیٰ کرے۔ان کے متعلق بھی خدا تعالیٰ پر اعتراض کرنے والے ہوتے ہیں۔یوں تو کہیں گے کہ اللہ کا ہم پر بڑا احسان اور فضل ہے۔بڑے انعامات ہیں۔مگر جب کوئی مصیبت آئے تو کہدیتے ہیں کہ نمازیں پڑھ کر اور روزے رکھ کر دیکھ لیا کچھ فائدہ نہ ہوا۔گویا وہ جو نمازیں پڑھتے اور روزے رکھتے تھے وہ خدا پر احسان کرتے تھے۔میں نے بتایا ہے کہ ایسے لوگوں کی حالت ان سے بھی بدتر ہوتی ہے جو خُدا کے راستہ میں کوئی کام ہی نہیں کرتے۔ایک شخص جو نماز نہیں پڑھتا روزے نہیں رکھتا۔وہ غافل اور بہت بڑی سزا کا مستحق ہے۔مگر ایک ایسا شخص جو کوئی تبلیغی کام کرتا ہے۔یا علم پڑھاتا ہے خواہ وہ الفاظ میں اس بات کا احسان خدا تعالیٰ پر جتلا دے۔خواہ اس کے دل کے کسی کو نہ میں یہ بات مخفی ہو کہ میں خُدا تعالیٰ پر احسان کر رہا ہوں۔وہ بہت زیادہ خطرہ میں ہے۔کیونکہ پہلے انسان کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ اس کی شستی اور غفلت ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے خُدا کی کوئی پروا نہیں کہ اس کے احکام کو مانوں۔مگر دوسرے انسان کے اعمال کا یہ ترجمہ ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ خُدا میرا محتاج ہے ان دونوں فقروں میں کہ ایک کہتا ہے مجھے خُدا کی کوئی پروا نہیں اور دوسرا کہتا ہے۔خُدا میرا محتاج ہے۔سمجھ لو کہ کونسا زیادہ سخت ہے۔اس میں شک نہیں کہ پہلا فقرہ بھی بہت سخت اور بہت بڑی سزا کا موجب ہے۔مگر دوسرا اس سے بھی زیادہ ہے۔پس یہ خیال بہت ہی خطرناک اور بڑے نتائج پیدا کرنے والا اور انسان کو ہلاکت تک پہنچانے والا ہے۔کیونکہ ایسے لوگوں کو ذرا ذراسی بات پر ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ایک سمجھتا ہے کہ یہ میرے حقوق ہیں اور جب اس کے سمجھے ہوئے حقوق میں سے کچھ دوسرے کو مل جاتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قل ھو اللہ احد کہو اللہ ایک ہے۔ہر بات میں وہ واحد ہے۔اور کوئی اس کا شریک نہیں۔اللہ الصمد اللہ وہ ہستی ہے کہ ہر ایک چیز اس کی محتاج ہے اور وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔