خطبات محمود (جلد 5) — Page 435
خطبات محمود جلد (5) ۴۳۴ پر احسان کر رہا ہے گو وہ منہ سے کہے کہ ہم سے کیا ہو سکتا ہے۔خدا کی توفیق اور فضل سے ہی ہمیں کچھ کرنے کا موقعہ ملا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے احسانات کا کیا شکریہ ادا کر سکتے ہیں۔لیکن درحقیقت یہ گروہ بھی انہی لوگوں میں شامل ہوتا ہے جو خُدا پر احسان رکھتے اور اس کا اظہارا اپنی زبانوں سے بھی کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے دل کے گہرے گڑھوں اور پوشیدہ کونوں میں تکبر اور معجب بھرا ہوتا ہے۔اس کا پتہ اُن کے اس انکسار سے لگ سکتا ہے جو محض تکلف اور بناوٹ کے طور پر ہوتا ہے۔ان میں حقیقی طور پر شکر گذاری کا مادہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے جب کوئی موقعہ پڑتا ہے تو ان کا سارا انکسار جا تا رہتا ہے۔اور ان کی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے۔ایسے انکسار کو عربی میں تو اضع کہتے ہیں اور یہ تکلف ہوتا ہے۔کہتے ہیں کسی جگہ دو ہندوستانی اکٹھے ہو گئے۔یہ دونوں ایسے علاقوں کے تھے جہاں کے لوگوں کا دعویٰ تھا کہ ہم تہذیب میں دوسرے علاقہ کے لوگوں سے بڑھ کر ہیں۔اب گو تکلف بہت کم ہو گیا ہے۔مگر مسلمانوں کے آخری زمانہ میں بہت بڑھ گیا تھا۔اور وہ دونوں اس آخری زمانہ کے باقی ماندہ تھے۔ان میں سے ایک سید تھا۔دوسرا مغل۔دونوں سٹیشن پر کھڑے تھے اتنے میں ریل آگئی ایک نے دوسرے کو سوار ہونے کے لئے کہا مرزا صاحب آپ گاڑی پر تشریف رکھیئے دوسرے نے کہا میر صاحب آپ تشریف رکھیئے بار بار کہتے اور اپنے متعلق عجز کے الفاظ استعمال کرتے رہے کہ گاڑی چل پڑی۔اب دونوں کو تکلف بھول گیا۔اور جلد سوار ہونے کے لئے ایک دوسرے کو دھکے دینے لگے۔یہی حالت ظاہری تواضع اور تکلف کی ہوا کرتی ہے اور اس کی حقیقت اس وقت کھلتی ہے جب خطرہ یا نقصان کا موقعہ آئے۔اور ایسے وقت میں انسانوں کی آزمائش ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص جو کوئی دینی خدمت کرتا ہے یا نہیں کرتا۔مگر اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے وہ اگر کہتا ہے کہ میرے لئے جو خدمت مقرر ہے مجھ میں کہاں طاقت ہے کہ اس کو اچھی طرح بجالا سکوں لیکن جہاں اس خدمت کے نتیجہ اور بدلہ میں اسے کچھ ملنے کی اُمید ہوتی ہے وہ اس کو نہیں ملتا بلکہ ایک ایسے شخص کو مل جاتا ہے جو اس کے خیال میں اس کا مستحق نہیں ہوتا تو وہ کہہ دیتا ہے کہ حق تو میرا تھا۔وہ کیوں لے گیا۔یا مثلاً ایک غلام ہے وہ آقا کو کہتا ہے کہ جو کچھ آپ مجھے دیتے ہیں وہ آپ کی نوازش اور مہربانی ہے۔ورنہ خدمات کچھ بھی نہیں۔لیکن جب ترقی یا انعام کا موقعہ آئے۔اور آقا دوسرے کو دے دے۔تو وہ یہ کہنے لگ جائے کہ میری خدمات کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی تو اس سے اس کی انکساری کی حقیقت کھل جائے گی۔کیونکہ اگر واقعہ میں وہ اپنی خدمات کو حقیر سمجھتا ہوگا تو ایسے موقعہ پر اپنی حق تلفی نہیں سمجھے گا۔لیکن اگر