خطبات محمود (جلد 5) — Page 422
خطبات محمود جلد (5) ۴۲۱ درست کہتا ہے۔اور اس کے پیشہ کی وجہ سے تسلیم نہیں کیا جاتا تو یہ بہت بری بات ہے۔دیکھو چوری کرنا ایک گناہ ہے۔شراب پینا اور بیچنا ایک ذلیل کام ہے اور اس لئے ذلیل ہے کہ شریعت نے اس کو گناہ قراردیا ہے۔لیکن رزق حلال کمانا گناہ نہیں۔پھر وہ طریقہ کسب معاش جو اسکے کمانے کے لئے اختیار کیا جائے۔کیسے ذلیل کہا جاسکتا ہے۔پس یہ لغو اور بے ہودہ بات کہنے کا کیا فائدہ کہ فلاں سید بن گیا اور فلاں پٹھان بن گیا۔کسی کا اس سے کیا تعلق ہے۔اگر اس نے اپنے نسب کو بدلا تو ایک گناہ کیا جس کا جواب دہ وہ خود ہوگا۔دوسروں کا اس نے کیا بگاڑا ہے کہ اس کے لئے ابتلاء کا موجب بنتے ہیں۔ہندوستان میں قریشیوں، اور پٹھانوں اور مغلوں کا آنا بحیثیت سپاہی کے تھا۔لیکن جب زمانہ کے بدلنے کی وجہ سے ان میں سے بعض خاندانوں کی حالت خراب ہو گئی تو انہوں نے کوئی پیشہ اختیار کر لیا۔تو کیا وہ یہ ذلت گوارا کرتے کہ سید یا مغل یا پٹھان ہو کر بھیک مانگتے پھرتے۔اور اس طرح ان کی عزت ہی رہتی۔لیکن چونکہ انہوں نے بھیک مانگنے اور دوسروں کے دست نگر ہونے کی بجائے کوئی پیشہ اختیار کر لیا اسلئے ذلیل ہو گئے۔گویا جب انہوں نے حلال معاش کا طریق اختیار کیا تو ذلیل ٹھہر گئے۔حالانکہ ذلت اس میں تھی کہ وہ بھیک مانگتے۔اور اپنے نسبوں کو لئے پھرتے مگر اس میں کوئی ذلت نہیں کہ انہوں نے دوسروں کے آگے دست سوال دراز کرنے کی ذلت کو گوارہ نہ کیا بلکہ حلال طریق سے کسب معاش کی۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ وہ لوگ اس لئے ذلیل ہو گئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کسب معاش کے لئے موچی۔جولاہے کا پیشہ اختیار کیا۔یہ ایک بیہودہ بات ہے کہ کسی کو کسی حلال پیشہ کے اختیار کرنے کی وجہ سے ذلیل سمجھا جائے۔اور کہا جائے کہ وہ سید نہیں رہا یا وہ پٹھان نہیں رہا یا مغل نہیں رہا۔حضرت صاحب نے کشتی نوح میں لکھا ہے کہ جو دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے وہ میری جماعت سے نہیں۔میرے پاس آج ہی ایک خط آیا ہے جس کے لکھنے والا شکایت کرتا ہے کہ قادیان کی جماعت احمدیت کی صداقت کا نمونہ ہے۔مگر جب ہم بازار میں گذرے۔تو طنزاً کہا گیا کہ یہ سیّد آ گئے ہیں۔یہ تو ان کی غلطی ہے کہ سارے لوگوں کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔صرف چند آدمی ایسے ہیں جن میں کمزوری کی علامات پائی جاتی ہیں۔اس لئے ایسے لوگوں پر سب کو قیاس نہیں کرنا چاہئیے۔اور ایک دو کے ایسا کہ دینے سے یہاں کی ساری جماعت کو بُرا خیال کرنا غلطی اور ایمان کی کمزوری کی علامت ہے مگر پھر بھی جنہوں نے یہ کہا ہے وہ یا درکھیں کہ خُدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو مومنوں کو فتنہ میں ڈالتے ہیں۔دوزخ کی بشارت دیتا ہے۔پس دوزخ ان کے لئے منہ کھولے ہوئے تیار ہے اس میں