خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 421

خطبات محمود جلد (5) ۴۲۰ تھوڑے تھوڑے عرصہ اور قریب قریب کے زمانہ کے بعد ہی فرق پڑ جاتا ہے۔مثلاً ایک خاندان سید یا مغل یا پٹھان ہے۔مگر افلاس نے اُسے مجبور کر دیا ہے کہ موچی کا کام کرے۔اور وہ یہ کام کرنے لگ گیا ہے۔اب جب دو تین پشتیں اس کام پر اس کی گذر جائیں گی تو سب لوگ انہیں موچی ہی کہنا شروع کر دیں گے۔اور بعض دفعہ تو وہ لوگ خود بھی نہیں جانتے کہ ہم اصل میں کون تھے لیکن اگر جانتے بھی ہوں اور وہ کہیں کہ ہم فلاں قوم سے ہیں تو پھر کوئی ان کی بات کو باور نہیں کرتا۔یہ ہندوستان میں ہی ایک نہایت نامعقول رواج ہے کہ پیشوں سے ذاتوں کی تشخیص کی جاتی ہے اس طرح بعض لوگوں کی ذاتیں تو پیشہ کے سبب سے مٹ جاتی ہیں۔اور بعض خاص فوائد کے ماتحت اپنی ذاتوں کو بدل لیتے ہیں۔ابتداء میں گولوگ انہیں جانتے ہیں مگر کچھ پشتوں کے بعد کوئی جانتا بھی نہیں کہ یہ لوگ اصل میں کون تھے۔پس اگر کوئی موچی کا کام کرتا ہے تو فی الواقعہ وہ موچی اور رذیل قوم سے نہیں ہے۔اسی طرح آج جو سید یا مغل یا پٹھان کہلاتا ہے۔وہ قسم کھا کر نہیں کہ سکتا کہ فی الواقعہ وہ سید یامغل یا پٹھان ہی ہے۔جب حالت یہ ہے تو پھر حیرت ہے کہ کوئی کسی پر آوازہ کے۔اور کہے کہ دیکھو جی فلاں موچی تھا۔آج سیّد بن بیٹھا ہے۔یا فلاں جو لا ہا تھا آج پٹھان بن گیا ہے میں پوچھتا ہوں کہ اس طرح کہنے والے کو کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنے نسب کو چھپاتا ہے وہ جہنمی ہے۔اب اگر کسی شخص نے فی الواقعہ اپنے نسب کو چھپایا ہے۔اور کچھ اور ظاہر کرتا ہے تو وہ خود گنہگار ہے۔اس کی سز اوہ خود پائے گا۔لیکن اگر وہ اپنے دعوی میں سچا ہے۔جس کے جھوٹا ہونے کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں تو پھر تمہارے کہنے سے اس کو جو ابتلاء آئے گا اس کے نتیجہ میں تمہارے لئے بھی جہنم ہے۔کیونکہ تم اس کے ابتلاء کا موجب بنے ہو۔اصل بات تو یہ ہے کہ پیشوں کا قومیت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔کیونکہ تمام ناجائز طریقوں سے کچھ حاصل کرنے کی نسبت ہر ایک پیشہ اعلیٰ درجہ رکھتا ہے۔پس جو شخص کوئی ایسا پیشہ اختیار کرتا ہے جو شرعا ممنوع نہیں۔اس سے اس کی ذات میں کوئی خرابی نہیں ہو سکتی۔دیکھو افغان اپنے ملک میں سب کام کرتے ہیں۔کوئی جوتا بناتا ہے۔کوئی کپڑا بنتا ہے لیکن اس سے ان کی ذات میں کوئی نقص نہیں آتا۔اور سب کو پٹھان ہی کہتے ہیں۔یہی حال یورپ کا ہے۔پس جب وہاں ان پیشوں کے کرنے سے ان لوگوں کی ذات میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا تو پھر ہندوستان میں یہ نقص کیوں گنا جائے اور پیشوں کی وجہ سے لوگوں کی قومیت سے جو وہ بتائیں کیوں انکار کیا جائے۔یہ کمال جہالت اور نادانی کی علامت ہے کہ کسی کے نسب پر اس لئے طعن کیا جائے کہ اس کا یا اس کے خاندان کا کسی پیشہ سے تعلق ہے۔اگر کوئی اپنے نسب کو چھپاتا ہے تو وہ ایک گناہ کا مرتکب ہوتا ہے لیکن اگر وہ