خطبات محمود (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 653

خطبات محمود (جلد 5) — Page 418

خطبات محمود جلد (5) ۴۱۷ غرض جس قدر نیکیاں ہیں۔وہ سب در حقیقت خدا تعالیٰ کا احسان ہیں۔انسان کی ہنرمندی کا ان میں کچھ بھی دخل نہیں لیکن پھر بھی خدا تعالیٰ ان کا نام جزار کھتا ہے۔جو صرف قدر افزائی اور مزید احسان کرنے کے لئے ہے۔بعض لوگوں کا بعض پر کسی قسم کا حق ہوتا ہے۔جس کے لینے کے وہ اس لئے حقدار ہوتے ہیں کہ انہوں نے فی الواقعہ ان کا کوئی کام کیا ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ جو انسان کے کاموں کا اجر دیتا ہے۔وہ اس لئے نہیں دیتا کہ انسان اس کا کوئی کام کرتا ہے۔بلکہ وہ صرف اس لئے انسان کا حق کہلاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے او پر اُس کو مقرر کر لیا ہے۔اور خود اس کا نام حق رکھ دیا ہے۔ورنہ بندہ کا خدا تعالیٰ پر کیا حق ہے۔اگر کوئی انسان فرائض بھی ادا کرتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا کوئی کام نہیں کرتا کیونکہ وہ سب طاقتیں جن کے ذریعہ فرائض کو پورا کرتا ہے انسان کو خُدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔پس فرائض کے ادا کرنے میں جو اجر خدا تعالیٰ دیتا ہے اگر چہ وہ اس کا نام جزار کھتا ہے لیکن دراصل وہ بھی اس کا احسان اور انعام ہی ہے۔غرض انسان کو جو اجر بھی ملتا ہے وہ سب خُدا کی طرف سے انعام اور احسان ہوتا ہے اگر کوئی انسان اس پر بے جا فخر کرے اور دوسروں پر جن کو وہ چیز نہیں ملی ہوتی ہنسی اور ٹھٹھا کرے تو پھر اس سے بھی وہ چھین لی جاتی ہے۔دیکھو ایک بچہ کوکوئی مٹھائی یا کوئی اور ایسی چیز دی جائے جس کا دوسرے بیمار بچے کو دینا مناسب نہ ہو۔اور وہ بچہ اس بیمار کے پاس جائے اور اس کو وہ چیز دکھا دکھا کر چڑائے اور رُلائے تو ماں باپ ہرگز یہ پسند نہیں کریں گے کہ اس کے پاس وہ چیز رہنے دیں۔بلکہ اس سے فوراً چھین لیں گے۔تاکہ دوسرے بچہ کو تنگ نہ کرے۔اسی طرح اگر کسی شخص کو خدا تعالیٰ نے کوئی درجہ یا مرتبہ دیا ہو۔یا کوئی اور انعام اس پر کیا ہو۔اور وہ اس پر فخر کر کے اللہ تعالیٰ کی دوسری مخلوق کو چڑائے اور ان کی تذلیل و تحقیر کرے تو خدا وند کریم بھی جو اپنی مخلوق کے ساتھ ماں باپ سے بھی کہیں زیادہ محبت اور پیار رکھتا ہے اس سے اپنے انعام واپس لے لیتا ہے تا کہ وہ اس کی مخلوق کی تحقیر نہ کر سکے۔اس ملک ہندوستان میں بڑے بڑے گھرانے ایسے گذرے ہیں جو اپنے رتبہ اور درجہ کے گھمنڈ میں یا خدا تعالیٰ کے کسی اور انعام کے حاصل ہونے کی وجہ سے دوسروں کی تذلیل اور تحقیر کرتے تھے۔مگر آج کوئی جا کر دیکھے کہ ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہا اور انقلاب زمانہ کے ایسے چکر میں پڑے اور ایسے ذلیل ہوئے کہ اب ان کی اولا دکو کوئی جانتا تک نہیں اس کے مقابلہ میں وہ جن کی تحقیر اور تذلیل کیا کرتے تھے ان کو خدا وند تعالیٰ نے بہت بڑا اور اونچا کر دیا۔ہنسی کرنے اور دوسروں کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے والے چھوٹے ہو گئے اور جن پر ہنسی کی گئی وہ بڑے اور